کراچی سے اغوا ہونے والی 4 سالہ بچی کوئٹہ سے مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
کراچی/ کوئٹہ:
سول لائن سے اغوا ہونے والی 4 سالہ بچی کوئٹہ سے مل گئی ہے اور بچی کے والد نے تصدیق کی ہے کہ بچی ان کے پاس ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ کراچی کے علاقے سول لائن ہجرت کالونی سے اغوا کی گئی کمسن بچی کوئٹہ سے مل گئی ہے، 4 سالہ مائرہ 25 اگست کو ہجرت کالونی میں گھر کے باہر سے لاپتہ ہوگئی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ سول لائن پولیس نے بچی کے اغوا کا مقدمہ 26 اگست کو والد کی مدعیت میں درج کیا تھا۔
پولیس کے مطابق بچی کے والد نے بتایا کہ کوئٹہ کے ایک شہری نے فیس بک پر بچی کے اغوا کی خبر دیکھ کر اہل خانہ سے رابطہ کیا، بچی ان کی ہمشیرہ کو حب چوکی سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ حب چوکی کی رہائشی خاتون شادی میں شرکت کے لیےبچی سمیت کوئٹہ گئی تھیں اور خاتون نے اپنے بھائی کو بچی سے متعلق بتایا جس نے سوشل میڈیا پر بچی کے بارے میں معلومات حاصل کی۔
بچی کے والد نے بتایا کہ بچی کو لینے اے وی سی سی پولیس کے ہمراہ کوئٹہ پہنچ گئے اور بچی ہمارے پاس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ بچی کے بچی کو
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔