سینیٹ کا اجلاس کل ہوگا: سیکریٹریٹ نے 18نکاتی ایجنڈ اجاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹ کا اجلاس کل 11 گیارہ بجے دن پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا، سینیٹ سیکرٹریٹ نے اجلاس کا 18 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا۔
سینیٹر سیف علی ظفر موشن پکچرز ترمیمی بل 2024 پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی معیاد میں 10 اکتوبر سے 60 دن کی توسیع کی تحریک پیش کریں گے۔
سینیٹر علی ظفر سینیٹر زرقا سہروردی کا پیش کردہ معلومات تک رسائی کے حق کے ترمیمی بل 2023 پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی معیاد میں 10 اکتوبر سے 60 دن کی توسیع کی تحریک پیش کریں گے۔
سلیم مانڈوی والا ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی معیاد میں 13 اکتوبر سے 60 دن کی توسیع کی تحریک پیش کریں گے، شیری رحمان قائمہ کمیٹی کی رپورٹ برائے پاکستان جنگلی نباتات و حیوانات ٹریڈ کنٹرول ترمیمی بل 2024 پیش کریں گی۔
شیری رحمان چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی مارچ 2024 تا مارچ 2025 سالانہ رپورٹ پیش کریں گی۔
عرفان الحق صدیقی چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ محمد ہمایوں مہمند کی جانب سے 18 جولائی 2025 کو پوچھے گئے سوال نمبر 26 جو گزشتہ دو برسوں کے دوران سربیا میں پاکستانی سفارتخانہ میں سربین ویزوں کے حصول کے لئے جن پاکستانی افراد کو معاونت فراہم کی ان کی تعداد سے متعلق تھا، پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کریں گے۔
عون عباس چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے صنعتیں و پیداوار سینیٹر محسن عزیز کی طرف سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے حامل نکتہ جو یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی بندش سے متعلق تھا کمیٹی رپورٹ پیش کریں گے۔
وفاقی وزیرِ قانون، قانون شہادت بل 1984 میں مزید ترمیم کا بل قانون شہادت ترمیمی بل 2025 پیش کریں گے، قیصر احمد شیخ وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ، قومی اسمبلی سے پاس شدہ بل آسان کاروبار بل 2025 منظوری کے لئے پیش کریں گے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی وزیر برائے وفاقی تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت قومی اسمبلی سے پاس شدہ بل دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 منظوری کے لئے پیش کریں گے۔
سینیٹر عبد الشکور خان تحصیل دو بندی ضلع قلعہ عبداللہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کم وولٹیج پرانے تقسیمی نظام اور قومی گرڈ سے منسلک نہ ہونے کے باعث علاقہ مکینوں کو پیش آنے والے مسائل کی جانب وزیر برائے بجلی کی توجہ مبذول کرائیں گے۔
سینیٹر بشریٰ انجم بٹ پاکستان میں صنعتی طور پر تیار شدہ ٹرانس فیٹی ایسڈز کے استعمال کے باعث دل کی شریانوں کے امراض سے اموات میں ہونے والے اضافے اور اس کے تدارک کے اقدامات کی جانب وزیر برائے نیشنل ہیلتھ کی توجہ مبذول کروائیں گے۔
پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلابوں جو انسانی جانوں املاک اور بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں پر بحث کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پر کمیٹی کی رپورٹ پیش قائمہ کمیٹی پیش کریں گے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم