پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی غزہ کے معاملے پر مارچ کر رہی ہے، غزہ امن معاہدے کے موقع پر احتجاج کا کوئی جواز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غزہ میں انسانی امداد بھجوائی، پاکستان نے فلسطین کا مقدمہ ہر فورم پر اٹھایا، فلسطینی طلبا کو پاکستان میں تعلیم کی سہولت فراہم کی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ نے اشتعال انگیز تقاریر کیں، ٹی ایل پی نے مارچ کے لیے کوئی اجازت نہیں لی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی غزہ کے معاملے پر مارچ کر رہی ہے، غزہ امن معاہدے کے موقع پر احتجاج کا کوئی جواز نہیں۔ وزیرمملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے غزہ میں انسانی امداد بھجوائی، پاکستان نے فلسطین کا مقدمہ ہر فورم پر اٹھایا، فلسطینی طلبا کو پاکستان میں تعلیم کی سہولت فراہم کی۔

طلال چودھری نے کہا کہ فلسطین کے عوام کو بیان بازی نہیں امن چاہئے، ان کے کارکنوں سے شیشے کی گولیاں، کیمیکل، ڈنڈے پکڑے گئے ہیں، یہ احتجاج ہے یا فساد ہے۔ وزیرمملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن قائم ہو رہا ہے، اب کس لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔؟ فلسطین کو امن اور ان کا حق مل رہا ہے، آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ طلال چودھری نے کہا کہ مذہب کے نام پر اشتعال انگیز تقاریر کا کیا مقصد ہے۔؟ اسلام آباد بدامنی، فساد پھیلانے والوں کے لیے نوگو ایریا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ برائے داخلہ طلال چودھری ٹی ایل پی

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ