ہیرو، ایک گوہر نایاب، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251010-03-5
شاہد نسیم چودھری
ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی جدائی اْس چراغ کے بجھنے جیسی ہے جو صدیوں روشنی بانٹتا رہا۔ مگر ایسے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخص تھے جنہوں نے پاکستان کو ایک ایسا مقام دلایا جہاں کوئی دشمن میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ پاکستان وہ پہلا مسلم ملک بنا جس نے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کی، اور اس میں ڈاکٹر خان کا پورا وژن، جدّت اور قربانی شامل تھی۔ وہ ایک رہنما، ایک محافظ، ایک علامت ِ خودی اور ایک عظیم ہدف کا چمکتا دیا تھے۔ 10 اکتوبر 2021 کو پاکستان اس عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا۔ اللہ ان کی لحد کو پر شبنم افشانی کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ چراغ تھے جس نے پاکستان کے اندھیروں میں خود انحصاری کی روشنی جلائی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہمیں سکھایا کہ خواب اگر وطن کے لیے ہوں تو حقیقت بن جاتے ہیں۔ سلام اْس محسن ِ وطن پر جس نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔
آج جب ہم ۱۰ اکتوبر کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی برسی پر اپنی نسل نو اور ایک دوسرے کو یاد دِلائیں گے کہ یہ عظیم انسان کون تھا، ان کی زندگی کے مقاصد کیا تھے، اور آج ہم ان کی خدمات کو کس انداز سے خراجِ تحسین پیش کر سکتے ہیں۔ تو یہ موقع ہے کہ نہ صرف ایک عظیم شخص کے نام پر آواز اْٹھائیں بلکہ اْس جذبے، حوصلے، قربانی اور ویژن کو اجاگر کریں جو انہوں نے ہم سب کے لیے چھوڑا ہے۔ ہر ملک کی تاریخ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنی بصیرت، عزم اور قربانی کی بدولت ’’مفکر ِ قوم‘‘ یا ’’شہید ِ مشعل‘‘ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ شخص تھے جنہوں نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر فائز کیا جہاں کوئی دشمن میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ انہیں صرف ایک سائنسدان یا انجینئر سے تعبیر نہ کیا جائے۔ وہ ایک رہنما، ایک محافظ، ایک علامت ِ خودی اور ایک چمکتا دیا تھے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا جنم یکم اپریل ۱۹۳۶ کو بھارت کے شہر بھوپال میں ہوا تھا۔ بعد از تقسیم ِ ہند، وہ اپنے گھرانے کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم پاکستان میں شروع کی، بعد میں بیرونِ ملک جدّتِ علم میں حصہ لینے کا عزم کیا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے میٹلرجی کی تعلیم حاصل کی، پھر جرمنی اور بلجیم میں اعلیٰ تعلیم کے لیے چلے گئے۔ وہ یونیورسٹی آف لیون میں میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کرتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا نیوکلیئر توانائی کی سمت بڑھ رہی تھی، اور یورپ کے تحقیقی مراکز میں انہوں نے یورینیم میٹالرجی اور گیس سنٹری فیوج ٹیکنالوجی پر کام کیا۔ یہ سفر، اگرچہ علم و تحقیق کی بلندیوں کا تھا، مگر اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ تھی کہ وہ پاکستان کے لیے کچھ عظیم کرنا چاہتے تھے، اپنے ملک کو دفاعی خودمختاری دینا چاہتے تھے۔
۱۹۷۴ میں جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکا کیا، اس حرکت نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو نیا رُخ دے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس منظرنامے کو سمجھتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں۔ انہوں نے یورینیم افزودگی (enrichment) کی ٹیکنالوجی پر کام کرنا شروع کیا، اور یورپ سے سنٹری فیوج بلیو پرنٹس اور متعلقہ ٹیکنالوجی کو اپنے وطن لانے کی راہ ہموار کی۔ اس کام کے دوران انہیں جو اخلاقی، قانونی اور سیاسی دباؤ سہنا پڑا، وہ ان کی قوتِ ارادی اور حب ِ وطن کی گواہی دیتا ہے۔پاکستان نے ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کو تاریخ ساز نیوکلیئر ٹیسٹ کیے، جنہوں نے ملک کو ’’جوہری قوت‘‘ کا درجہ دیا۔ اس کارنامے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کا کردار ناقابل ِ فراموش ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان وہ پہلا مسلم ملک بنا جس نے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کی، تاہم ان کامیابیوں کے دوران، ان پر الزام تراشیاں، تنقید اور قانونی مشکلات بھی آئیں۔ ۲۰۰۴ میں تحقیقات اور تنقید کی زد میں آئے، اور حکومت وقت نے بیرونی دباؤ کی بناء پر ان پر پابندیاں عائدکیں۔ یہ پہلو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عظمت کے راستے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔ کم تر علم یا سیاسی مفاد کی خاطر بزرگ عظیم لوگوں کو موردِ الزام ٹھیرایا جاتا ہے، مگر ان کی کوششیں اور عزم تاریخ کی عدالت میں خود بولتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ ہے جو عام الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ایک ’’جوہری‘‘ قوت بنا دیا۔ یعنی ایک ایسی حالت جہاں دشمن حملے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوں۔ اس نے ہماری حفاظت کی تصویر بدل دی، اور ہماری سلامتی کو ایک نئی سطح دی۔ ان کے منصوبے نے ممالک کی آنکھوں کے سامنے یہ پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور سلامتی کے حوالے سے خود کفیل ہونا چاہتا ہے۔ جب ملک کے اندر دشمنی، عدم توازن یا خوف کے عناصر ہوں، تو ایک ایسے دفاعی ہتھیار کا ہونا ملک کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ اکثر لوگ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صرف نیوکلیئر سائنسدان کے طور پر جانتے ہیں، لیکن ان کی دلچسپی تحقیق، ٹیکنالوجی، ایجادات اور تعلیمی فروغ میں بھی رہی۔ انہوں نے کئی تحقیقی مراکز کی بنیاد رکھی، مختلف نصابی مربوطات کو فروغ دیا، اور جوشِ تحقیق کی شمع روشن رکھی۔ ان کے نام پر ’’Dr AQ Khan Institute of Biotechnology and Genetic Engineering‘‘ جیسے ادارے قائم کیے گئے، تاکہ نئی نسل کو تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے۔ یہ ان کے وژن کا تسلسل ہے کہ سائنس صرف ہتھیار نہیں بلکہ علم کا دروازہ ہے جو زندگی کو بدل سکتا ہے۔
ان کی شخصیت کی خوبی یہ تھی کہ وہ صرف ایک ’’سائنسدان‘‘ نہیں تھے، بلکہ ایک علامت ِ ایمان، عزم، محبت و احترام کی ذات بھی تھے۔ وہ اپنے وطن سے محبت کرتے تھے، عام انسانوں کے لیے درد دل رکھتے تھے، اور اخلاقی حدود کا خیال رکھتے تھے۔ یوں وہ ایک مثال بن گئے کہ کامیابی میں خود پسندی، غرور یا عیاشی نہیں، بلکہ خدمت، قربانی اور عزم ہونا چاہیے۔ آج جو لوگ سائنسی میدان میں قدم رکھتے ہیں، انہیں ڈاکٹر خان کے جذبے سے سبق لینا چاہیے۔
ڈاکٹر خان کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے بھی ہمیں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان پر جو الزامات لگے وہ صرف بے معنی تھے۔ ان پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی کو تزویراتی ممالک کو فراہم کرنے کا الزام لگا، اور ان کی قانونی اور اخلاقی پوزیشن پر سوال اٹھائے گئے۔ لیکن ان مباحثوں کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی خدمات کم ہوں۔ ان کی برسی پر، ہم صرف ماضی کو یاد نہیں کرتے، بلکہ حاضر کو چیلنج کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی میراث کو زندہ رکھیں۔ اس کے لیے تعلیم اور تحقیق کو فروغ دیں۔ نئی نسل کو صرف کتابی علوم نہیں بلکہ عملی تحقیق، تنقیدی سوچ اور تجرباتی علم کی تربیت دیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کو قومی مشن سمجھیں۔ قوم کو خود مختاری کی راہ پر گامزن کریں چاہے وہ توانائی کا شعبہ ہو، دفاع کا شعبہ یا ٹیم ساز شعبے۔ علم صرف طاقت نہیں، بلکہ ذمے داری ہے۔ ڈاکٹر خان ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ طاقت کے ساتھ اخلاق، ضمیر اور حب الوطنی نبھانا ضروری ہے۔ تنقید اور خود احتسابی کا دَروازہ کھلا رکھیں اگر کسی کو کمزوریاں محسوس ہوں، اسے چھپانا نہیں بلکہ کھلے دل سے گفتگو کرنا چاہیے۔ تنقید اگر تعمیری ہو تو ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مشترکہ عزم اور یکجہتی۔ جب قوم مل کر کام کرے تو بڑی سے بڑی منزل کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خان نے خود تنہا نہیں بلکہ ایک ٹیم، ایک قوم کی حمایت سے یہ مشن آگے بڑھایا۔ ۱۰؍ اکتوبر ایک یادگاری تاریخ نہیں، بلکہ ایک مشعل ِ راہ ہے کہ ہم اسے ہر دن زندہ رکھیں۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم مقاصد، حب ِ وطن اور تحقیق ِ علم کی یکجہتی انسان کو تاریخ کے بلند و بالا مقام پر پہنچا سکتی ہے۔ وہ چلے گئے، مگر اْن کی خوشبو آج بھی وطن کی فضاؤں میں بسی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک نام نہیں تھے، ایک عہد، ایک نظریہ، ایک احساس تھے جس نے پاکستان کو سربلند کیا۔ ایسے لوگ کبھی مرتے نہیں، وہ قوموں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں۔ دعا ہے کہ خالق ِ کائنات اْن کے درجات بلند فرمائے۔ آئیے آج ہم پاکستانی ایک دوسرے سے وعدہ کریں کہ ہم ان کے نام کو خراجِ تحسین اور ان کے مشن کو عہد ِ تجدید کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ڈاکٹر خان نہیں بلکہ انہوں نے کے ساتھ صرف ایک حاصل کی بلکہ ا خان کی کے لیے کو ایک
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027