سٹی42:  الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر عملدارآمد کرتے ہوئے  قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں  پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان کو آزاد امیدوار قرار دے دیا جس کے بعد خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا ایک بھی رکن نہیں رہا۔

 الیکشن کمیشن نے یہ اقدام 6 اکتوبر کو کیا ہے جس کے بعد کل 8 اکتوبر کو اڈیالہ جیل سے پی ٹی آئی کے بانی نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو استعفیٰ دینے کا حکم دے دیا۔ اب یہ کسی کو نہیں معلوم کہ بانی "اپنے بندے" کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلیٰ کس طرح بنوائیں گے۔

کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لاکر لگائے گئے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے 25 اگست کے فیصلے کی روشی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیوں سے وابستہ ارکان اور آزاد ارکان کی مکمل فہرستیں 6 اکتوبر کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی ہیں۔ اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی ہوا ہے۔ 

خیبر پؒتونخوا اسمبلی کے اندر پارٹیوں سے وابستہ ارکان کی فہرست کے ساتھ 92 آزاد ارکان اسمبلی کی فہسرت موجود ہے۔ ان آزاد ارکان پر کسی پارٹی کا ڈسپلن نافذ نہیں ہوتا البتہ انہیں کسی سیاسی جماعت میں جانا ہے یا اپنیا کوئی نیا بلاک بنا کر اسے الیکشن کمیشن کے علم میں لانا ہے، یہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ ذرائع ی ہبتا رہے ہیں کہ آزاد ارکان اسمبلی میں کئی گروپ ہیں اور وہ الگ الگ سمت میں جا رہے ہیں۔  نئی فہرست جاری کردی ۔

سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کیلئے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، جانئے درخواست کیسے دیں

الیکشن کمیشن کی نئی فہرست کے مطابق 145 ارکان کی خیبر پختونخوا اسمبلی میں 91 ارکان آزاد, ایک سنی اتحاد کونسل کا ہے اور  اپوزیشن جماعتوں کےارکان کی تعداد 52 ہے۔

جے یوآئی کے 18 ، مسلم لیگ ن کے 17 ، پیپلز پارٹی کے 10 ،عوامی نیشنل پارٹی کے 4 اور پی ٹی آئی پارلیمنیٹرین کے 3 ارکان ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباد اللہ خان نے  الیکشن کمیشنکی جانب سے آزاد منتخب ہونے والے تمام ارکان  کو آزاد ارکان ڈیکلئیر کرنے کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ، آزاد  اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ اب تو  یہ فلور کراسنگ نہیں ہوگی ، اپوزیشن کے اجلاس میں وزارت اعلیٰ کے لیے امیدوار نامزد کیا جائے گا۔

لاہور :طب کے میدان میں بڑا سنگ میل عبور، گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن ا زاد ارکان ارکان کی ارکان ا

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن