طالبان حکومت کی وزارت تیل کے مطابق توتی میدان گیس فیلڈ تقریباً 7500 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے اور اس میں تیل اور گیس کے تقریباً 30 کنویں موجود ہیں۔ توقع ہے کہ ازبکستان اگلی دہائی میں اس منصوبے میں سالانہ تقریباً 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور افغان سرزمین سے نکالی جانے والی گیس کو صاف کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ازبکستان کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ازبک کمپنیوں کو طالبان حکومت سے افغانستان میں تیل اور گیس کے وسائل کی تلاش اور نکالنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔ ازبک وزیر توانائی جوریبک مرزام محمودوف نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ازبک کمپنیوں کو افغانستان کے اندر تیل اور گیس کے وسائل کی تلاش اور نکالنے کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ازبک میڈیا کے مطابق یہ اقدام افغانستان کے شمالی صوبہ جوزجان میں "توتی میدان" گیس فیلڈ میں 25 سالہ معاہدے کے فریم ورک کے اندر کیا گیا ہے اور اس سے افغان اور ازبک کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا۔ 

مرزا مخمدوف نے کہا کہ یہ منصوبہ ستمبر کے وسط میں شروع ہوا تھا اور اس کے پہلے مرحلے میں توتی میدان گیس فیلڈ میں کنوؤں کی کھدائی اور ان کا تخلیہ شامل ہے۔ ازبک وزیر توانائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ابتدائی نتائج کا جائزہ لینے کے بعد افغانستان کے دیگر خطوں تک تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ طالبان حکومت کی وزارت تیل کے مطابق توتی میدان گیس فیلڈ تقریباً 7500 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے اور اس میں تیل اور گیس کے تقریباً 30 کنویں موجود ہیں۔ توقع ہے کہ ازبکستان اگلی دہائی میں اس منصوبے میں سالانہ تقریباً 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور افغان سرزمین سے نکالی جانے والی گیس کو صاف کرے گا۔

مرزا مخمدوف نے اس منصوبے کو ایک "جدید اقدام" قرار دیا جس سے دونوں ممالک کو اقتصادی اور علاقائی فوائد حاصل ہوں گے اور توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تعاون کو تقویت ملے گی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں، کابل اور تاشقند کے حکام نے افغانستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے "طوطی میدان" فیلڈ سے گیس نکالنے کے لیے $1 بلین مالیت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ طالبان کے نائب وزیر اعظم برائے معیشت عبدالغنی برادر نے کہا کہ افغان وزارت کانوں اور پیٹرولیم اور ازبک کمپنی "ایریل" کے درمیان ایک بلین ڈالر مالیت کے طوطی گیس نکالنے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وسط ایشیائی ریاستوں کا ہمسایہ ملک افغانستان ہائیڈرو کاربن کے وسائل سے مالا مال ہے، لیکن برسوں کی جنگ اور بدامنی نے ان صلاحیتوں کا مکمل فائدہ اٹھانے سے روک رکھا ہے۔ اب افغان حکومت کی جانب سے ازبک کمپنیوں کو لائسنس کے اجراء اور توتی میدان منصوبے کے آغاز سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور علاقائی اقتصادی ترقی کے لیے میدان تیار ہو گیا ہے۔ اس منصوبے سے طالبان کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عبوری حکومت کی آمدنی میں اضافے اور افغانستان اور پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ازبک کمپنیوں کو میں تیل اور گیس تیل اور گیس کے ہے کہ ازبک حکومت کی گیس فیلڈ اور اس کرے گا

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ