پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے ڈیلی الاؤنسز کی مد میں تمام واجبات ادا کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے سینیئر، جونیئر اور انڈر-18 ٹیموں کے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ آفیشلز اور ملازمین کے تمام واجبات اور ڈیلی الاؤنسز کی ادائیگی مکمل کر دی ہے۔
صدر پی ایچ ایف طارق بگٹی نے بتایا کہ سلطان جوہر کپ میں شرکت کے لیے ملائیشیا روانہ ہونے والی جونیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو ایڈوانس الاؤنس بھی ادا کر دیا گیا ہے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بغیر اپنے کھیل پر مکمل توجہ دے سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا گیا ہے اور اب تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کر دی گئی ہے۔ البتہ جن کھلاڑیوں کے اکاؤنٹس حبیب بینک (ایچ بی ایل) میں نہیں ہیں، ان کی رقم کی منتقلی میں معمولی تاخیر ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ نیشنز کپ کے دوران کپتان سمیت چند کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر اپنے واجبات کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد پی ایچ ایف نے فوری اقدامات کرتے ہوئے تمام واجبات ادا کر دیے۔
صدر طارق بگٹی نے امید ظاہر کی کہ کھلاڑی اب آنے والے مقابلوں میں بھرپور توجہ اور جذبے کے ساتھ اپنی بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔