غزہ سے کسی فلسطینی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ سے کسی فلسطینی کو زبردستی نہیں نکالا جائے گا اور وہاں کا امن منصوبہ تمام فریقین کی رضامندی سے طے پایا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اتوار کو مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ پیر یا منگل کو یرغمالیوں کی رہائی کے موقع پر وہ اسرائیل میں موجود ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ "ہم دیکھیں گے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد آگے کیا اقدامات کرنے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کے امن منصوبے پر سب کی حمایت حاصل ہے، اس لیے کسی کو وہاں سے زبردستی نہیں نکالا جائے گا۔"
فن لینڈ کے صدر کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اتوار کو روانگی کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور "میں اس دورے کا منتظر ہوں"۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا اسرائیل اگلے ایک سال میں سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب ہو جائے گا، ٹرمپ نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
نوبل امن انعام سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے دنیا بھر میں تنازعات کے حل کے لیے آٹھ بڑے معاہدے کرائے، جن میں غزہ کا جنگ بندی معاہدہ سب سے اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرمپ نے کہا جائے گا کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ