اسلامی، عرب اور یورپی وزرائے خارجہ کی جانب سے ٹرمپ امن معاہدے کا خیر مقدم
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے جمعرات کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی، جس میں متعدد عرب، اسلامی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تاریخی معاہدہ طے پاگیا
اجلاس کا مقصد غزہ کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی کے اقدامات پر مشاورت تھا۔
اجلاس میں متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، اٹلی، جرمنی، اسپین، برطانیہ، قطر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سمیت یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی محترمہ کیایا کالاس نے بھی شرکت کی۔
شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن معاہدے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور اسرائیلی انخلا پر اتفاق ہوا ہے۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مکمل اور پائیدار امن کے لیے فلسطینی عوام کی مشکلات کا ازالہ، غزہ کی بحالی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
بیان میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور نیویارک امن اعلامیے کے تناظر میں دو ریاستی حل پر عمل درآمد، 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دار الحکومت قرار دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ معاہدہ سعودی عرب سعودی وزیر خارجہ فرانس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹرمپ معاہدہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔