وزیراعلیٰ کے پی کا استفعیٰ34 گھنٹے بعد بھی گورنر ہاؤس کو نہ مل سکا، آئینی بحران کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
( ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے گورنر کو بھیجا گیا استعفا 34 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی گورنر ہاؤس کو نہ مل سکا، استعفے کی گمشدگی آئینی بحران کو جنم دے سکتی ہے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا نے استعفے پر پہلے سے ہی اعتراضات لگا دیئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے استعفا گورنر ہاؤس بھجوا دیا تھا جبکہ گورنر ہاؤس ذرائع بتاتے ہیں کہ استعفا وصول نہیں ہوا، 34 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی استعفا کس کے پاس ہے ایک معمہ بن گیا ہے۔
کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لاکر لگائے گئے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
اس معاملے پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا استعفا موصول نہیں ہوا، حیرانگی کی بات ہے شیخ وقاص اکرم اتنے سینیئر سیاستدان ہونے کے باوجود وہ کہہ رہے ہیں کہ استعفا گورنر ہاؤس کے کلرک کو دیا گیا ہے، استعفا دینے کا آئینی طریقہ کار ہے جو وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے درمیان باقاعدہ سمری کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔
دوسری جانب، گورنر خیبر پختون خوا نے استعفا وصول ہونے سے قبل ہی اعتراضات لگا دیئے ہیں۔
سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کیلئے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، جانئے درخواست کیسے دیں
گورنر کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت استعفا تحریری طور پر دیا جاتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر جو استعفا گردش کر رہا ہے وہ کمپوز شدہ ہے۔
گورنر کے مطابق استعفا کسے کے کہنے پر نہیں دیا جاتا ہے، اگر دیں بھی تو پارٹی صدر یا پارٹی چیئرمین کے کہنے پر دیا جاتا ہے جبکہ مستعفی وزیراعلیٰ نے بانی چیئرمین کا ذکر کیا ہے، استعفا موصول ہونے کے بعد آئینی اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
لاہور :طب کے میدان میں بڑا سنگ میل عبور، گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
آئینی ماہرین کے مطابق استعفے کی منظوری تک علی امین وزیراعلیٰ ہیں اور نئے وزیراعلیٰ کا تقرر بھی استعفے کی منظوری سے قبل نہیں ہو سکتا، اس صورتحال پر ایک نئے آئینی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس جاتا ہے کے بعد
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔