ریلویز پولیس میں جعلسازی اور دھوکا دہی سے بھرتی ہونے کی کوشش، 13 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
لاہور:
ریلویز پولیس میں سب انسپکٹر لیگل، اے ایس آئی اور کانسٹیبل کی بھرتیوں کے جاری عمل کے دوران انچارج ریکروٹمنٹ کمیٹی ڈی آئی جی عبدالرب چودھری کی زیرِ نگرانی 13 جعلی اُمیدواروں کو ٹیسٹ سینٹرز سے گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ریلویز پولیس کی آٹھوں ڈویژنوں میں فزیکل امتحان (جسمانی پیمائش و دوڑ) کا عمل جاری ہے جس دوران لاہور، کراچی، مغلپورہ ورکشاپس اور سکھر میں بھرتی کے لیے فزیکل امتحان میں شریک ہونے والے جعلی اُمیدواروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان نے فزیکل امتحان اور دوڑ میں اصل امیدواروں کی جگہ شریک ہونے کی کوشش کی۔
تمام جعلی اُمیدواروں کو ریکروٹمنٹ کمیٹی کے ممبران نے رول نمبر سلپس کی جانچ پڑتال کے دوران مشکوک پایا اور قصور وار ثابت ہونے پر جعلسازی میں ملوث حقیقی اور جعلی ملزمان کو گرفتار کرکے تھانہ ریلویز پولیس لاہور، مغلپورہ ورکشاپس، لانڈھی اور سکھر میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
لاہور ڈویژن سے محمد رمضان، محمد احسان اور وقاص علی جبکہ مغلپورہ ورکشاپس ڈویژن سے امروز اور محمد اعجاز کو امتحانی مراکز سے گرفتار کیا گیا۔ کراچی ڈویژن سے جعلی اُمیدواران زین، فیاض اور ذوالفقار جبکہ سکھر سے سجاد، عمران، امان اللہ، کمیل رضا اور بلاول کریم کو گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں ریلویز پولیس کی 1000 خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے اور فزیکل امتحان میں ریلویز پولیس لاہور اور کراچی ڈویژنز نے 3/3، مغلپورہ ورکشاپس 2 اور سکھر ڈویژن نے 5 جعلی اُمیدواروں کو گرفتار کرکے مقدمات کا اندراج کرلیا ہے۔
آئی جی ریلویز پولیس رائے طاہر (ہلال شجاعت، ستارہ امتیاز) کی ہدایات کے مطابق ڈی آئی جی عبدالرب چودھری کی زیرِ نگرانی ریلویز پولیس میں بھرتی کے عمل کو شفافیت اور میرٹ پر مبنی بنانے کے لئے ریکروٹمنٹ کمیٹی لگن اور محنت سے کام کر رہی ہے جو اس عمل کو 100 فیصد شفاف بنانے میں کوشاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جعلی ا میدواروں کو ریلویز پولیس فزیکل امتحان
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ