WE News:
2026-06-03@01:05:24 GMT

بھارت کا کابل میں مکمل سفارت خانہ کھولنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

بھارت کا کابل میں مکمل سفارت خانہ کھولنے کا اعلان

بھارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اپنے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے میں تبدیل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان اور بھارت کی قربت، طالبان نے دہلی کو اہم علاقائی اور معاشی شراکت دار قرار دیدیا

اس بات کا اعلان بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ نئی دہلی میں ملاقات کے بعد کیا۔

یہ ملاقات طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ بھارت افغانستان میں ترقی، تجارت، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیے: اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کی اعلیٰ قیادت کا بھارت کا پہلا دورہ جلد متوقع

انہوں نے افغانستان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے لیے بھارت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان قریبی تعاون نہ صرف آپ کی قومی ترقی میں مددگار ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

متقی کا نئی دہلی کا دورہ

طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی جمعرات کو نئی دہلی پہنچے۔ ان کا یہ دورہ روس میں افغانستان سے متعلق ایک بین الاقوامی اجلاس کے بعد ہوا جس میں چین، بھارت، پاکستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کے نمائندے شریک تھے۔

مزید پڑھیں: افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کیا بھارت کا دورہ کرسکیں گے؟

واضح رہے کہ متقی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

طالبان سے رابطے: بھارت کی نئی حکمت عملی

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی جانب سے طالبان کے ساتھ یہ رابطہ نئی دہلی کی افغان پالیسی میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھارت اور طالبان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں دونوں کے درمیان روابط میں بتدریج بہتری آئی ہے۔

اس سے قبل بھارت کے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے جنوری میں دبئی میں امیر خان متقی سے ملاقات کی تھی جبکہ بھارت کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے نے اپریل 2025 میں کابل کا دورہ کیا تھا تاکہ سیاسی و تجارتی تعاون پر بات چیت کی جا سکے۔

پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں دورہ

یہ پیشرفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں خصوصاً افغان مہاجرین کی واپسی اور سرحدی مسائل کے حوالے سے تناؤ پایا جا رہا ہے۔

پس منظر: بھارت اور طالبان کا پیچیدہ تعلق

جب طالبان نے 4 سال قبل کابل کا کنٹرول سنبھالا تو بھارتی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا اور کشمیر میں عسکریت پسندی کو تقویت ملے گی۔

تاہم بھارت نے ان خدشات کے باوجود طالبان کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور سنہ 2022 میں کابل میں ایک تکنیکی مشن قائم کیا جس کا مقصد انسانی امداد اور ترقیاتی تعاون تھا۔

طالبان کی عالمی تنہائی برقرار

اگرچہ طالبان نے چین، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں مگر خواتین پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث وہ اب بھی عالمی سطح پر تنہا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا افغانستان کو دوٹوک پیغام، ایشیا کپ میں بھارت کی گھٹیا حرکت، ’وی ٹاک‘ میں عمار مسعود کی اہم گفتگو

سابق بھارتی سفیر گوتم مکھوپادھیا کے مطابق بھارت اور طالبان کے درمیان یہ روابط طالبان حکومت کی قانونی حیثیت کی توثیق نہیں بلکہ اصلاحات کے لیے ایک موقع ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی افغانستان امیر متقی کا دورہ بھارت بھارت بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی افغانستان امیر متقی کا دورہ بھارت بھارت بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر طالبان کے نئی دہلی بھارت کی کے ساتھ کا دورہ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی