کراچی میں جرائم، بھتہ خوری اور دہشت گردی پرقابو پانے کیلیے رینجرز اور پولیس کا مشترکہ لائحہ عمل تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
شہر قائد میں جرائم، بھتہ خوری اور دہشت گرید کے واقعات کی روک تھام کیلیے رینجرز و پولیس نے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں قائم رینجرز ہیڈ کوارٹرز (سندھ) میں میجر جنرل محمد شمریزاور آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت سیکیورٹی کانفرنس کا انعقا د کیا گیا۔
کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، تمام ڈی آئی جیز، جوائنٹ ڈی جی آئی بی، رینجرز اور حساس اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
کانفرنس میں شہر کی امن و امان کی مجموعی صورت حا ل کو بہتر بنانے کے لیے انتظامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس میں صوبے میں بالخصوص کراچی کی امن و امان کی مجمو عی صورت حال کو بہتر بنانے اور دہشتگردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے مشترکہ آپریشن موثر بنانے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے عمل کو مزید سخت بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس کے دوران خصوصاً بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اسلحے کی غیر قانونی نمائش اوردیگر جرائم کے خلاف موثر اور جامع پلان بنانے کے ساتھ ساتھ بزنس کمیونٹی اور غیر ملکیوں کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے پٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں صوبے کے ہر حصے میں ملک دشمن کاروائیوں کی سرکوبی کے لیے بین الصوبائی لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا۔
ترجمان سندھ رینجرز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی شرپسند عناصر،مشکوک سر گرمی اور ناخوشگوار واقعہ کی فوری اطلاع تعینات رینجرز اہلکار،رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں، اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔