پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ عسکری مشق ‘البطار-II’ کامیابی سے مکمل
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
ریاض:
پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ عسکری مشق ‘البطار۔II’ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ عسکری مشق کامیابی کے ساتھ ختم ہوگئی، جس سے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مزید مستحکم ہوا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشق "البطار-II" 18 سے 26 نومبر تک سعودی عرب کے خطے تبوک میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس کا محور انسدادِ دہشت گردی تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ مشق میں پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ اور سعودی آرمی کے خصوصی دستوں نے حصہ لیا۔
اختتامی تقریب 26 نومبر کو سعودی عرب کے علاقے تبوک میں منعقد ہوئی، تقریب میں پاکستان کی جانب سے جنرل آفیسر کمانڈنگ اسپیشل سروسز گروپ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ سعودی عسکری قیادت کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مشق کے دوران دونوں برادر ممالک کے جوانوں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، عملی تربیت اور باہمی تعاون کا شان دار مظاہرہ کیا، مشق کے اہم پہلوؤں میں مختلف علاقوں میں جنگ دیسی ساختہ بارودی سرنگوں کا مقابلہ، انسداد دہشت گردی کے مختلف مراحل اور مشترکہ حربی مشقیں شامل تھیں۔
بیان کے مطابق ٹاسک کو مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا،"البطار-II" نے نہ صرف دونوں ممالک کی افواج کی انسداد دہشت گردی کے شعبے میں صلاحیتوں کو مزید نکھارا بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور تاریخی عسکری تعلقات کو بھی مزید مضبوط کیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ تمام تربیتی مقاصد کامیابی سے حاصل کیے گئے جو خطے میں امن، سلامتی اور مشترکہ دفاعی تیاری کے لیے دونوں ممالک کے مضبوط عزم کا اظہار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کی آئی ایس پی آر البطار II کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔