فیلڈ مارشل سے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
(احمد منصور)ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے آج جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
آرمی چیف نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے لیے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعاون وقت کی ضرورت ہے۔
لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے پانچویں نمبر پرآگیا
انہوں نے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں اسٹریٹجک تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
علی لاریجانی نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے اور دیرپا استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مؤثر مکالمہ اور مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔
کراچی: مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تیز دھار آلے کے وار، 3 افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔