خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ن لیگ کی حکومت بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں، شیخ وقاص اکرم کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا میں اپنا منتخب وزیراعلیٰ لانے یا وہاں گورنر راج نافذ کروانے کی سازش کررہی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 دنوں کے دوران مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں کی طرف سے ایک غلط بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے جس میں تحریک انصاف کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کرنے والا دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ موصول ہو چکا، منظوری تک وہ وزیراعلیٰ رہیں گے، گورنر خیبرپختونخوا
شیخ وقاص نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائیاں متوقع ہیں، ان کے بقول حریف سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی بہانے کی تلاش میں ہیں تاکہ تحریک انصاف پر قانونی یا سیاسی پابندیاں عائد کی جاسکیں، جس سے پارٹی کی عوامی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام کے جواب میں شیخ وقاص نے واضح الفاظ میں کہا کہ تحریک انصاف کا ان سے کوئی تعلق ممکن ہی نہیں، اس وقت کی تحریک انصاف کی کابینہ نے ایسی افراد کو واپس بسانے کی مخالفت بھی کی تھی اور پارٹی ہمیشہ ادہشتگردی کی مخالفت اور قانون کا حامی رہی ہے۔
شیخ وقاص نے یہ بھی کہا کہ بعض پالیسیاں اور فیصلے پی ڈی ایم کے پہلے دور اور نگران حکومت کے ادوار میں سامنے آئے اور انہی ادوار میں بعض اقدامات نافذ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیسے ہوگا؟ طریقہ کار سامنے آگیا
ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے موقف بتایا کہ عمران خان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مکمل اسٹرائک یا فوجی آپریشن کے نتیجے میں عام شہریوں کو نقصان پہنچنے سے مقامی آبادی فورسز کے خلاف ہوجاتی ہے اور اس نفرت سے دہشت گرد عناصر کو دوبارہ فائدہ ہوتا ہے، اس لیے ایک موقع دے کر سیاسی اور سفارتی راستے آزمانے کی بات سامنے آئی، جس میں افغان حکام سے بات چیت، جرگے یا ثالثی کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی تجویز شامل رہی۔
شیخ وقاص نے تاریخی سیاق و سباق بھی پیش کیا اور کہا کہ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں کبھی آپریشن کیے گئے اور کبھی مذاکرات ہوئے، جیسے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی یہ طریقے اپنائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کس کے کہنے پر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کیا، طارق فضل نے بتادیا
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی متعدد ریاستیں اسی طرزِ عمل کے تحت وقتاً فوقتاً مسائل حل کرتی رہی ہیں، اس لیے مذاکرات کو بطور آپشن مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹی ٹی پی کے کئی اثاثے اور روابط افغان سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں اور اس لیے افغان حکومتی رابطے کو ضروری قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ادہشتگردی ایک ناسور ہے جسے جڑ سے ختم کرنا ہوگا، مگر اس مقصد کے لیے ایسی پالیسی ترتیب دی جائے جو ہمارے جوانوں اور عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو اولین ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ادہشتگردی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزائیں دی جانی چاہئیں تاکہ شہداء کا خون رائیگاں نہ جائے اور امن قائم رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news تحریک انصاف خیبرپختونخوا شیخ وقاص اکرم گورنر راج مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف خیبرپختونخوا شیخ وقاص اکرم گورنر راج مسلم لیگ ن شیخ وقاص اکرم تحریک انصاف انہوں نے کہا کہ یہ بھی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔