کم وقت میں زیادہ فسٹ بمپ کا گینیز ورلڈ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سیریل ریکارڈ بریکر ڈیوڈ رش نے اپنے ساتھی جونتھن ’ہالی ووڈ‘ ہینن کے ساتھ مل کر کم وقت میں زیادہ ’فسٹ بمپنگ‘ کا گینیز ورلڈ ریکارڈ واپس حاصل کر لیا۔
ڈیوڈ رش اور جونتھن نے بطور ٹیم 30 سیکنڈ میں 426 فسٹ بمپ کر کے ریکارڈ واپس حاصل کرلیا۔
ڈیوڈ رش نے سب سے ہاوی مینڈل کے ساتھ 380 فسٹ بمپ کر کے ریکارڈ بنایا۔ اس کے بعد ڈیوڈ رش نے یوٹیوبر ڈاکٹر مائک کے ساتھ ٹیم بنا کر 398 فسٹ بمپ کے ساتھ اپنا ہی ریکارڈ توڑا۔
بعد ازاں یہ ریکارڈ نکول ڈی بونِس اور ایرک کار نے 30 سیکنڈ میں 406 فسٹ بمپ کر کے یہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
تازہ ترین کوشش میں ڈیوڈ رش نے جونتھن ہینن نے 30 سیکنڈ میں 426 فسٹ بمپ کر کے گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فسٹ بمپ کر کے ڈیوڈ رش نے کے ساتھ
پڑھیں:
آئی سی سی کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بڑی تبدیلی پر غور
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو مزید مؤثر اور دلچسپ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے آئی سی سی نے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹووز کر رہے ہیں۔
یہ گروپ مستقبل کے بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ڈھانچہ اور اس کا مستقبل بھی شامل ہے۔
ٹووز کے گروپ نے رواں ماہ دبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کیں، تاہم حتمی فیصلوں کی توقع مارچ سے قبل نہیں کی جا رہی۔
اب تک ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں نو ٹیمیں ایک ہی لیگ میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ ہر ٹیم چھ سیریز کے دوران کم از کم 12 میچ کھیلتی ہے جس کے بعد پوائنٹس ٹیبل کا تعین جیت کے ’فیصد‘ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے رواں سال ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ’یہ بات پوری طرح سمجھ لی گئی ہے کہ موجودہ ڈھانچہ اس طرح کام نہیں کر رہا جیسے اسے کرنا چاہیے، اور ہمیں ایک زیادہ منصفانہ اور بہتر مقابلہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے‘۔
ایسا لگتا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو دو ڈویژنز یا درجوں میں تقسیم کرنے کا جو خیال کئی برسوں سے وقتاً فوقتاً زیرِ بحث آتا رہا ہے، اب اسے مؤثر طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس تجویز کو مسترد کرنے کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر چھوٹی ٹیمیں دوسری ڈویژن میں چلی گئیں تو ان کی مالی حالت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ اگر انگلینڈ، آسٹریلیا یا بھارت جیسی بڑی ٹیموں میں سے کوئی تنزلی کا شکار ہو جاتی تو ان کے درمیان ہونے والی مقبول اور منافع بخش ٹیسٹ سیریز متاثر ہو جاتیں۔
خاص طور پر انگلینڈ اور آسٹریلیا کی مالی مضبوطی کا زیادہ تر دارومدار ان ہی بڑی ٹیسٹ سیریز کے نشریاتی معاہدوں پر ہے۔
اس کے بجائے اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کو 12 ٹیموں کی لیگ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جس میں آئی سی سی کے تمام فل ممبرز شامل ہوں گے۔
اس کا مطلب ہے کہ موجودہ نو ٹیموں کے ساتھ آئرلینڈ، افغانستان اور زمبابوے کو بھی شامل کیا جائے گا، تاکہ مقابلہ ایک جامع اور مکمل عالمی لیگ کی شکل اختیار کر سکے۔
ہر ٹیم کو دو سالہ سائیکل میں کم از کم 12 ٹیسٹ میچ کھیلنے کی شرط برقرار رہے گی، تاہم سیریز کی مدت میں لچک دی جائے گی۔
یعنی کسی سیریز میں صرف ایک میچ بھی ہو سکتا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ پانچ میچوں پر مشتمل سیریز بھی مقرر کی جا سکے گی۔
یاد رہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اس وقت اپنے چوتھے سائیکل میں داخل ہو چکی ہے۔