ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ملک کے مختلف ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران ایسے 176 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ متاثر قومی ایئرلائن (PIA) کی پروازیں ہوئیں۔
صرف پی آئی اے کی پروازوں کے ساتھ 90 مرتبہ پرندے ٹکرائے۔ لاہور سے سب سے زیادہ 16، اسلام آباد سے 15، ملتان سے 13، اور کراچی سے 9 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ستمبر 2025 میں صرف ایک ماہ کے دوران 26 واقعات سامنے آئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ تعداد 10 تھی، جو تشویشناک اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
زیادہ تر واقعات طیارے کی لینڈنگ یا اپروچ کے دوران پیش آئے، جن میں پی آئی اے کے 8 طیاروں کو جزوی یا شدید نقصان پہنچا۔ ان میں ایئربس A320 ماڈل سب سے زیادہ متاثر ہوا، جس کے ساتھ 68 بار پرندے ٹکرائے۔
حال ہی میں معروف اداکار قیصر خان نظامانی بھی ایک ایسے واقعے کا شکار ہوئے۔ اُنہوں نے بتایا کہ لاہور سے کراچی جاتے ہوئے ان کی پرواز کے دوران طیارے سے پرندہ ٹکرا گیا، لیکن پائلٹ نے انتہائی حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرواز کو محفوظ طریقے سے لینڈ کرایا۔ اداکار نے شکر ادا کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ ایئرپورٹس یا ان کے آس پاس پرندوں کو دانہ ڈالنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ معمولی سی غفلت کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پرندوں کا طیاروں سے ٹکرانا نہ صرف مہنگے مالی نقصانات کا باعث بنتا ہے بلکہ مسافروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اور شہری تعاون دونوں ضروری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔