وزیراعظم سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچ گئے، مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
وزیراعظم سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچ گئے، مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع WhatsAppFacebookTwitter 0 5 October, 2025 سب نیوز
کوالالمپور (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف ملائیشیا کے 3 روزہ سرکاری دورے پر کوالالمپور پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر وزیراعظم اور ان کے وفد کا شاندار استقبال کیا گیا۔
اتوار کے روز وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سرکاری دورے پر کوالالمپور پہنچے، جہاں بنگا رایا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ملائیشیا کے وزیر اطلاعات و کمیونیکیشنز فہمی فادضل، پاکستانی ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔وزیراعظم کو شاہی پروٹوکول کے ساتھ ان کی رہائش گاہ منتقل کیا گیا۔ وزیراعظم کی رہائش آمد پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور شہباز شریف کو خوش آمدید کہا۔
اس موقع پر شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا آکر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے، شاندار استقبال پر ملائیشیا کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اس دورے سے پاک ملائیشیا دوطرفہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اپنے ملائیشین ہم منصب سے ملاقات کریں گے اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امورپرتبادلہ خیال کیا جائے گا جب کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوں گے۔
ملاقات کے دوران تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے ساتھ آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، حلال انڈسٹری، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، انفرا اسٹرکچر، ڈیجیٹل اکانومی اورعوامی روابط جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔دونوں رہنما کئی موجودہ اور نئے شعبوں میں باہمی تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں کی تقاریب میں بھی شریک ہوں گے۔وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ایک اعلی سطح کا وفد بھی دورہ کر رہا ہے، جس میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی اور سینئر سرکاری حکام شامل ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی دعوت پر سرکاری دورے پر پہنچے ہیں جب کہ شہباز شریف کا یہ دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سیون فور میں سالانہ انویسٹیچر تقریب کا شاندارانعقاد چیئرمین سینیٹ نے پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کارروائی روک دی وزیراعظم کی اے لیول امتحانات میں امتیازی گریڈ حاصل کرنیوالی ماہ نور سے ملاقات پی ٹی آئی دور حکومت کی 131ملین روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آگئی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کا اسلام آباد میں17نومبرسے دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کیخلاف کریک ڈاون کا اعلان کوئی بھی اگر پاکستان مخالف بولے گا، ہم اس کو نہیں مانتے، حنیف عباسی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا تو حکمرانوں کا نان نفقہ بند کردینگے، حافظ نعیم الرحمانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ملائیشیا کے پر ملائیشیا
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز