افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششیں ناقابلِ قبول: ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششیں ناقابلِ قبول: ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
ماسکو(آئی پی ایس )روس میں افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا اجلاس ختم ہوگیا ہے، جس کے مشترکہ اعلامیے میں افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنے۔منگل کو روس میں افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کا ساتواں اجلاس اختتام پذیر ہوگیا، جس میں پہلی بار طالبان کے وزیر خارجہ نے بھی شرکت کی جب کہ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں افغانستان میں فوجی ڈھانچے یا انفرا اسٹرکچر کی کسی بھی نئی کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بننی چاہیے۔شرکا نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے افغانستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغان عوام اور حکومت کی حمایت پر زور دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی افغانستان اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اجلاس میں علاقائی فریم ورک کے مثر کردار کو اجاگر کیا گیا اور افغانستان کے علاقائی روابط کے نظام میں فعال انضمام کی بھرپور حمایت کی گئی۔قبل ازیں وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر تفصیلات شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز افغانستان کے لیے 4 فریقی اجلاس ماسکو میں ہوا، جس میں پاکستان، چین، روس اور ایران کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان دنیا کا واحد ملک جہاں سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو رہا ہے، سلمان اکرم راجا پاکستان دنیا کا واحد ملک جہاں سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو رہا ہے، سلمان اکرم راجا عنبرین جان،شاہیرہ شاہد یا توقیر شاہ ،کون بنے گا چیئرمین پیمرا؟ کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کرتی رہوں گی: مریم نواز شامی فوج اور کرد جنگجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی طے پاگئی پاکستانی اسپن جال سے بچنے کیلئے جنوبی افریقا نے اسپن کھیلنے پر فوکس کرلیا ماسکو فارمیٹ: پاکستان، بھارت، چین اور ایران کا افغانستان کی صورتحال پر غورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی ماسکو فارمیٹ کا
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔