ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی 20 سیزن 4 کی تاریخی پلیئرز نیلامی
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
دبئی:متحدہ عرب امارات کے فاسٹ باؤلرز جنید صدیق اور محمد روہید نے ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 سیزن 4 کی پہلی پلیئرز نیلامی میں سب کو حیران کر دیا۔ جنید صدیق کو شارجہ واریئرز نے 1 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالر میں اپنی ٹیم میں شامل کیا جبکہ محمد روہید کو ایم آئی ایمیریٹس نے 1 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر میں خریدا۔ یہ دونوں کھلاڑی لیگ کی سب سے مہنگی خریداریوں میں چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔فاسٹ باؤلرز کے لیے مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں وسیم اکرم کو شارجہ واریئرز نے 55 ہزار ڈالر اور حیدر رضا کو گلف جائنٹس نے 50 ہزار ڈالر میں حاصل کیا۔ یہ پیش رفت خطے میں کرکٹ کے لیے ایک بڑا سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔شارجہ واریئرز کے ساتھ چوتھے سیزن میں واپسی پر جُنید صدیق نے کہاکہ یہ میرے لیے ایک خاص لمحہ ہے۔ پہلی نیلامی میں ٹیم نے مجھے دوبارہ اعتماد دیا اور واپس شامل کیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ یو اے ای کرکٹ کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے مواقع ہمیں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔محمد روہید نے ایم آئی ایمیریٹس کے ساتھ معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ یقین لمحہ ہے۔ میں نے پچھلے دو سیزن میں اس ٹیم کے ساتھ بہت کچھ سیکھا ہے اور اب مزید آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ میری خواہش ہے کہ خطے کے نوجوان کرکٹرز دیکھیں کہ یہاں حقیقی مواقع موجود ہیں اور وہ بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔محمد روہید نے رواں برس ہی یو اے ای ٹیم میں ڈیبیو کیا تھا اور اب تیزی سے اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ وہ اکثر نئی گیند کے ساتھ جنید صدیق کے ساتھ باؤلنگ کا آغاز کرتے ہیں اور پچھلے دو سیزنز میں ایم آئی ایمیریٹس کے لیے 15 میچز کھیل کر 19 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد روہید کے ساتھ
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔