فیس بک کو اب ملازمت کے حصول کیلئے بھی استعمال کیا جاسکے گا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میٹا ایک ایسی کمپنی ہے جو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں مسلسل نئے فیچرز شامل کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔
اسی سلسلے میں اب فیس بک میں ایک نیا فیچر شامل کیا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں کے لیے ملازمتوں کی تلاش کو آسان بنانا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیچر بالکل نیا نہیں بلکہ 2017 میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا، تاہم اسے 2022 میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب ایک بار پھر اسے فیس بک کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
“لوکل جابز” کے نام سے یہ فیچر فیس بک کے مارکیٹ پلیس سیکشن میں ایک الگ ٹیب کی صورت میں موجود ہوگا، جبکہ یہ گروپس اور بزنس پیجز پر بھی دستیاب ہوگا۔
یہ نوکریاں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے ہوں گی اور درخواست دہندگان کو فیس بک کی گائیڈ لائنز کی پابندی کرنا ہوگی۔
صارفین ان جاب پوسٹس پر اپلائی بھی کر سکیں گے اور براہ راست کمپنیوں سے فیس بک میسنجر کے ذریعے رابطہ بھی کیا جا سکے گا۔
اس فیچر کا مقصد فیس بک کو صرف ایک سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم کے بجائے زیادہ کارآمد اور عملی پلیٹ فارم بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیس بک
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔