پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف جے یو آئی کی درخواست خارج کر دی
پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف جے یو آئی (ف) کی دائر کردہ درخواست مسترد کر دی۔
عدالت میں سماعت کے دوران بینچ نے جے یو آئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ یا تو وہ درخواست واپس لے لیں، یا پھر عدالت اس پر فیصلہ دے گی۔ اس پر جے یو آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ چاہتے ہیں عدالت درخواست کو میرٹ پر سنے اور فیصلہ دے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا، جو بعد ازاں سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی گئی۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبہ اس وقت بغیر وزیراعلیٰ کے چل رہا ہے، اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان احکامات کو کالعدم قرار نہ دیا جائے، ان پر عملدرآمد لازم ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کی درخواست پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ہدایت کی تھی کہ وہ نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے فوری طور پر حلف لیں۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اگر گورنر حلف نہ لیں تو یہ ذمہ داری صوبائی اسمبلی کے اسپیکر ادا کریں۔
بعد ازاں گورنر فیصل کریم کنڈی نے تصدیق کی کہ وہ آج شام 4 بجے وزیراعلیٰ سے حلف لیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ جے یو ا ئی

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ