data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارتی کرکٹ اسٹار ویرات کوہلی نے گروگرام (گڑگاؤں) میں واقع اپنے قیمتی بنگلے کا جنرل پاور آف اٹارنی (GPA) اپنے بڑے بھائی وِکاس کوہلی کے نام کر دیا ہے۔ یہ شاندار بنگلہ ڈی ایل ایف سٹی فیز-1 میں واقع ہے، جس کی مالیت تقریباً 80 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ انتظامی سہولت کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ویرات کوہلی اس وقت اپنی اہلیہ انوشکا شرما اور بچوں کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔ بیرونِ ملک قیام کے باعث بھارت میں موجود جائیداد کے معاملات دیکھ بھالنا ان کے لیے مشکل تھا، اسی لیے انہوں نے پاور آف اٹارنی کے تحت اپنے بھائی کو یہ قانونی اختیار دے دیا ہے کہ وہ بنگلے کی دیکھ بھال، انتظام، فروخت یا کرائے سے متعلق فیصلے خود کر سکیں۔

اس اقدام سے ویرات کوہلی کی غیر موجودگی میں جائیداد سے متعلق تمام معمول کی قانونی کارروائیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں گی۔

ابھی تک ویرات کوہلی یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سامنے آنے والی ویڈیوز میں قانونی کارروائی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل، بھارتی کرکٹ ٹیم کی غیر مستحکم کارکردگی کے بعد بھارتی کرکٹ بور ڈ(بی سی سی آئی )کو ٹیم میں روہت شرما اور ویرات کوہلی کی یاد آنے لگی ہے ۔بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیم انڈیا میں روہت شرما اور ویرات کوہلی کی غیر موجودگی واضح محسوس کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور بی سی سی آئی کی پالیسی کے مطابق کسی کھلاڑی کو ریٹائرمنٹ لینے کے لیے نہیں کہا جاتا۔راجیو شکلا نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم سب روہت شرما اور ویرات کوہلی کی غیر موجودگی کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔ بی سی سی آئی کی پالیسی یہ ہے کہ ہم کبھی بھی کسی کھلاڑی کو ریٹائر ہونے کے لیے نہیں کہتے۔ ان دونوں کو ہمیشہ عظیم بلے بازوں کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویرات کوہلی کی شرما اور کے لیے کی غیر

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز