ویرات کوہلی نے 80 کروڑ کا بنگلہ بڑے بھائی کے نام کر دیا! وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی کرکٹ اسٹار ویرات کوہلی نے گروگرام (گڑگاؤں) میں واقع اپنے قیمتی بنگلے کا جنرل پاور آف اٹارنی (GPA) اپنے بڑے بھائی وِکاس کوہلی کے نام کر دیا ہے۔ یہ شاندار بنگلہ ڈی ایل ایف سٹی فیز-1 میں واقع ہے، جس کی مالیت تقریباً 80 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ انتظامی سہولت کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ ویرات کوہلی اس وقت اپنی اہلیہ انوشکا شرما اور بچوں کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔ بیرونِ ملک قیام کے باعث بھارت میں موجود جائیداد کے معاملات دیکھ بھالنا ان کے لیے مشکل تھا، اسی لیے انہوں نے پاور آف اٹارنی کے تحت اپنے بھائی کو یہ قانونی اختیار دے دیا ہے کہ وہ بنگلے کی دیکھ بھال، انتظام، فروخت یا کرائے سے متعلق فیصلے خود کر سکیں۔
اس اقدام سے ویرات کوہلی کی غیر موجودگی میں جائیداد سے متعلق تمام معمول کی قانونی کارروائیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں گی۔
ابھی تک ویرات کوہلی یا ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سامنے آنے والی ویڈیوز میں قانونی کارروائی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس سے قبل، بھارتی کرکٹ ٹیم کی غیر مستحکم کارکردگی کے بعد بھارتی کرکٹ بور ڈ(بی سی سی آئی )کو ٹیم میں روہت شرما اور ویرات کوہلی کی یاد آنے لگی ہے ۔بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے اعتراف کیا ہے کہ ٹیم انڈیا میں روہت شرما اور ویرات کوہلی کی غیر موجودگی واضح محسوس کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں کی ریٹائرمنٹ ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور بی سی سی آئی کی پالیسی کے مطابق کسی کھلاڑی کو ریٹائرمنٹ لینے کے لیے نہیں کہا جاتا۔راجیو شکلا نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم سب روہت شرما اور ویرات کوہلی کی غیر موجودگی کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔ بی سی سی آئی کی پالیسی یہ ہے کہ ہم کبھی بھی کسی کھلاڑی کو ریٹائر ہونے کے لیے نہیں کہتے۔ ان دونوں کو ہمیشہ عظیم بلے بازوں کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویرات کوہلی کی شرما اور کے لیے کی غیر
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔