جنوبی وزیرستان میں کارروائی کرکے افغان خودکش بمبار کو گرفتار کرلیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)فرنٹیئرکور (ایف سی) خیبر پختونخوا نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کرکے افغان خودکش بمبار کو گرفتار کرلیا۔گرفتار خود کش بمبار کی شناخت نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کے نام سے ہوئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار خودکش بمبار افغانستان کے صوبے قندھار کا رہائشی ہے۔خودکش بمبار نے بتایا ہےکہ خودکش حملےکی تربیت تین ماہ کی تھی، اس نے ایک ہفتےکی ٹریننگ لی۔
خودکش بمبار کے مطابق تربیت میں اسے سکھایا گیا کہ گاڑی پر خود کش حملہ کیسے کرنا ہے۔خودکش بمبار نے بتایا کہ وہ 40 لوگ خوست میں اکٹھے ہوئے اور براستہ چیوار پاکستان میں داخل ہوئے۔
پنجاب حکومت کے مسلسل اقدامات اور عوامی تعاون نے لاہور کے اے کیو آئی کو کنٹرول کیا، الحمدللہ :مریم اورنگزیب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔