Jasarat News:
2026-06-03@05:20:38 GMT

ابراہیم معاہدہ یا اسرائیل کی تسلیم: ہماری ریڈ لائن

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا کی سیاست ایک بار پھر اْس موڑ پر آن پہنچی ہے جہاں ایمان، غیرت اور اصولوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی تپش ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایک بار پھر نئی سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہیں۔ فاکس بزنس نیٹ ورک کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب ابراہام معاہدے میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔ یہ خبر اگر درست ہے تو یہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا زخم ہے۔ ٹرمپ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران سعودی عرب اس معاہدے میں شامل نہیں ہو سکا تھا لیکن اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول، ایران کی طاقت میں کمی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد خطے میں ایک نئی ’’صف بندی‘‘ ابھر رہی ہے جس میں سعودی عرب کی شمولیت خطے میں امن و استحکام کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکا کی خارجہ پالیسی میں مشرقِ وسطیٰ ہمیشہ سے اسرائیل کے مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ’’ابراہام معاہدے‘‘ کے نام پر جو منصوبہ پیش کیا گیا تھا وہ دراصل فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے اور عرب دنیا کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش تھی۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اس جال میں پھنس چکے ہیں۔ اب کوشش یہ ہے کہ سعودی عرب بھی اس قافلے میں شامل ہو جائے تاکہ فلسطین مکمل طور پر تنہا ہو جائے۔ یہ معاہدے دراصل ’’امن‘‘ کے نام پر غلامی کی دستاویزات ہیں جن کے ذریعے اسرائیل کو خطے کا مرکزی کردار دینے کا خواب پورا کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں لاکھوں بے گناہ فلسطینی پچھلے پچھتر برس سے ظلم، جبر اور قبضے کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔ بیت المقدس کی گلیاں آج بھی شہید بچوں کے خون سے تر ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مظالم نے انسانیت کو شرما دیا ہے۔ غزہ کے حکام کے مطابق قابض فوج نے شہدا کی لاشوں سے انسانی اعضا تک چوری کیے ہیں۔ ریڈ کراس کے ذریعے واپس کی گئی 120 لاشوں میں سے اکثر کی حالت انتہائی ابتر تھی۔ ان پر تشدد کے آثار، بندھی ہوئی آنکھیں، گلے پر رسی کے نشانات، اور باندھ کر قتل کیے جانے کے ثبوت موجود تھے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اور مغربی حکومتیں ان جرائم پر خاموش ہیں کیونکہ قاتل اسرائیل ہے اور مقتول مسلمان ہے۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس اب اقوامِ متحدہ میں ایک نئی قرارداد پیش کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت ’’غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس‘‘ تعینات کی جائے گی۔ بظاہر یہ امن کے قیام کی بات ہے مگر درحقیقت یہ اسرائیل کے قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ جب عالمی طاقتیں خود ظالم کے ساتھ کھڑی ہوں تو انصاف کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ اسی تناظر میں پاکستان کے عوام اور قیادت پر بھی ایک بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ریڈ لائنز واضح کریں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہی فلسطین کے اصولی مؤقف پر رکھی گئی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ یہی مؤقف پاکستان کے عوام کے دل کی دھڑکن ہے۔ یہی ریڈ لائن ہے جسے پار کرنا کسی بھی حکومت کے لیے ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیر ِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بجا طور پر اور کئی بار کہا کہ حکومت کا اسرائیل کو تسلیم کرنا یا ابراہام معاہدے کی طرف بڑھنا ہماری ریڈ لائن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی فارمولہ قبول نہیں، کیونکہ یہ ریاست ِ پاکستان کا مؤقف نہیں بلکہ صہیونی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگر کسی حکومت نے ابراہامی معاہدے کی طرف کوئی قدم بڑھایا تو قوم راستہ روکے گی، عوام کی طاقت آپ کو خاک میں ملا دے گی۔ یہ اعلان صرف امیر جماعت کا نہیں بلکہ اس قوم کے شعور کی علامت ہے جو نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئی تھی۔ حافظ نعیم الرحمن کا یہ کہنا کہ ’’اسرائیل یا امریکا کی غلامی کا نہیں سوچیں بلکہ حماس کی پشت پر کھڑے ہوں‘‘ امت ِ مسلمہ کے دل کی آواز ہے۔ حماس کوئی عام تنظیم نہیں، وہ مظلوموں کی آواز ہے۔ وہ ان مائوں کی دعا ہے جن کے بیٹے بیت المقدس کے دفاع میں شہید ہوئے۔ وہ ان نوجوانوں کی امید ہے جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔ حماس کی مزاحمت دراصل ایمان کی قوت کا استعارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا اسے دہشت گردی کا نام دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی عوام کا یہی احساس غالب ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا دراصل اپنے نظریاتی تشخص کو دفن کرنا ہے۔ امیر ِ جماعت اسلامی کا اس پس منظر میں یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ مسلم ملکوں پر قابضین براجمان ہیں، ان سے قبضہ چھڑوانا ہے۔ امریکا نے پاکستان کو آج تک کیا دیا؟ صرف قرضے، مہنگائی، اور معاشی بدحالی۔ ہمارے حکمران واشنگٹن کی خوشنودی کے لیے اپنی خودمختاری گروی رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنی معیشت کو آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسا دیا ہے، جس کا نتیجہ عوام کی غربت اور بے بسی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ امریکا زوال پذیر قوت ہے اور دنیا میں طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین، روس، ایران اور ترکی اب عالمی طاقت کے نئے محور بن کر ابھر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم اب بھی امریکا یا اسرائیل کے قدموں میں بیٹھنے کی کوشش کریں تو یہ ہماری سیاسی بصیرت نہیں بلکہ قومی خودکشی ہوگی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو قرآن و سنت اور قائد اعظم کے نظریات کے مطابق استوار کریں۔ ہمیں اپنے عوام کے ایمان اور اصولی موقف پر اعتماد کرنا چاہیے۔ اگر حکومتیں امت کے جذبات کے خلاف فیصلے کریں گی تو انہیں عوامی ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔ آج امت ِ مسلمہ ایک فیصلہ کن مرحلے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف امریکا اور مغربی طاقتوں کی غلامی کا راستہ ہے جو ہمیں ایمان، خودداری اور غیرت سے محروم کر دے گا۔ دوسری طرف مزاحمت، عزیمت اور حریت کا راستہ ہے جسے فلسطینی خون سے روشن کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ہر با شعور شہری جانتا ہے کہ ہم اپنی اساس سے منہ نہیں موڑ سکتے۔ ہم اس راستے پر نہیں چل سکتے جو بیت المقدس کی آزادی کے بدلے تل ابیب کے جھنڈے کو سلامی دینے کا تقاضا کرے۔ اس وقت یہی ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم نہ کریں۔ یہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امت ِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ آج اگر بیت المقدس خاموش ہے تو کل مکہ و مدینہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ نعیم الرحمن کا اعلان وقت کی آواز ہے۔ اگر کسی حکومت نے ابراہام معاہدے کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی تو عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ یہ قوم اپنے نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ دنیا کی طاقتیں بدل رہی ہیں، لیکن حق کا معیار نہیں بدلتا۔ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ایمان کی علامت ہے۔ آج اگر ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تو یہ صرف فلسطین کی شکست نہیں بلکہ پوری امت ِ مسلمہ کی شکست ہوگی۔ پاکستان کے عوام کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں، ہم سب کا ہے۔ بیت المقدس امت ِ مسلمہ کا دل ہے۔ اگر یہ دل زخمی ہے تو پوری امت بیمار ہے۔ اور جب تک یہ زخم مندمل نہیں ہوتا، کوئی امن، کوئی معاہدہ، کوئی ابراہامی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ امت کی بیداری، مزاحمت اور ایمان ہی اس اندھیری رات کا واحد چراغ ہے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن ابراہام معاہدے بیت المقدس اسرائیل کو اسرائیل کے نہیں بلکہ کو تسلیم کی کوشش کا نہیں رہے ہیں نہیں ہو کے لیے

پڑھیں:

سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول

اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی  اڈوں کو بند کیا۔  ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک  کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔  7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔  سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد