پاکستان انٹر نیشنل اسکول ریاض میں پاکستانی یونیورسٹی لمس نے طلبہ اور طالبات کے ساتھ تعلیمی اور تعمیری سیشن کا انعقاد کیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
الریاض (وسیم خان) پاکستان انٹرنیشنل اسکول ریاض، سعودی عرب میں پاکستان کی مشہور و معروف یونیورسٹی لمس لاہور نے طلبہ اور طالبات کے ساتھ ایک نہایت تعلیمی اور تعمیری سیشن کا انعقاد کیا۔ جس کا مقصد دیار غیر میں موجود پاکستانیوں کے بچوں کو نسٹ یونیورسٹی کے داخلے اور کورسسز کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔نسٹس کی طرف سے مس زینب ایسوسیٹ ڈائریکڑ آف انٹرنیشنل افیرز اور مس مریم ملک مینجر آف مارکیٹینگ نے مختلف سلائیڈز کی مدد سے طلباء و طالبات کی بھر پور مدد کی۔ لمس نے ریاض سعودی عرب میں پہلی دفعہ ایسے سیشن کا انعقاد کیا ہے۔ پرنسپل راجہ محمد عرفان کی کاوشوں سے لمس نے اس کمیونٹی سکول کا انتخاب کیا جو ان کی قیادت میں اب دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہا ہے۔ سکول کے فیڈرل بورڈ کے نتائج ہوں یا بچوں کے مستقبل کی کونسلنگ، سکول کی موجودہ انتظامیہ بچوں اور والدین کے لئے بھر پور کوشش کر رہی ہے۔ پروفیسر انوار الحق سنئر سیکشن ہیڈ بوائز نے آنے والی ٹیم کا سکول انتظامیہ کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سکول کی موجودہ انتظامیہ پرنسپل کی سربراہی میں بچوں کے بہتر ی کے ایسے اقدامات اٹھاتی رہے گی جس سے ان کا مستقبل تابناک ہوتا رہے گا۔ جاوید مرزا نے تقریب میں نظامت کے فرائض ادا کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔