انسدادِ پولیو مہم: 4 کروڑ 37 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مکمل
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: قومی انسدادِ پولیو مہم اپنے آخری روز بھی بھرپور انداز میں جاری ہے جس میں کے ابتدائی چھ روز میں 4 کروڑ 37 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔
نیشنل ای او سی کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، سندھ میں 1 کروڑ 4 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، خیبر پختونخوا میں 61 لاکھ 67 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے اور بلوچستان میں 25 لاکھ 84 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
نیشنل ای او سی نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں 4 لاکھ 66 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جبکہ گلگت بلتستان میں تقریباً 2 لاکھ 94 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 33 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
قوم کے مستقبل کو پولیو سے بچانا ہر فرد کی قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے میں والدین اور سرپرستوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاکھ سے زائد بچوں کو کے قطرے پلائے گئے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔