ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ کارروائیاں؛ 12 کروڑ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
راولپنڈی:
ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ کارروائیوں میں 12 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد کرلی گئی۔
ترجمان کے مطابق اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اس دوران مختلف کارروائیوں میں افغان شہری اور خاتون سمیت 9ملزمان کو گرفتار کرکے 12کروڑ 36لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 200 کلوگرام منشیات برآمد کرلی گئی۔
تعلیمی اداروں میں کارروائیاں
چناب ٹول پلازہ گجرات کے قریب خاتون کے قبضے سے 4.
دیگر آپریشنز
جناح ایئرپورٹ پر سعودی دارالحکومت ریاض جانے والے مسافر کے سامان میں موجود مٹھائی کے 2 ڈبوں سے 1.990 کلوگرام وزنی،13000 زینیکس گولیاں برآمد برآمد کرلی گئیں۔ علاوہ ازیں طارق روڑ کراچی میں واقع کوریئر آفس میں برطانیہ بھیجے جانے والے پارسل سے 1.620 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی۔
اُدھر عامر ٹاؤن کینال روڈ لاہور میں واقع کوریئر آفس میں آسٹریلیا بھیجے جانے والے پارسل سے990گرام آئس برآمد کی گئی، جسے کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بھگو کر جوتوں کے اگلے اوپری حصے میں سی کر چھپایا گیا تھا ۔
چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں واقع کوریئر آفس میں امریکا سے آنے والے پارسل میں موجود کھلونوں سے 14 گرام ویڈ برآمد ہوئی۔ کامرہ روڈ اٹک کے قریب گاڑی سے 2.59کلوگرام ہیروئن ،2.1 کلوگرام آئس برآمد کی گئی اور افغان باشندے سمیت 2ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
ہزارہ ایکسپریس وے تھاکوٹ کے قریب گاڑی سے 14.400 کلوگرام چرس برآمد کرکے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ لک پاس ٹول پلازہ کوئٹہ کے قریب گاڑی سے 5 کلوگرام آئس برآمد کرکے 2ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ ویسٹرن بائی پاس ہزارگنجی کوئٹہ کے قریب 86 کلوگرام ہیروئن اور 80 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔
تمام کارروائیوں کے انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کلوگرام ہیروئن کرلی گئی میں واقع کے قریب کی گئی
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس