پرائیویٹ حج سکیم کے تحت درخواستیں جمع کرانے کی کل آخری تاریخ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی)پرائیویٹ حج سکیم کیلئے درخواستیں جمع کرانے کی کل 22 اکتوبرآخری تاریخ ہے ،جس کے بعد نجی سکیم کے تحت کوئی نئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔وزارتِ مذہبی امور کے اعلامیے کے مطابق پرائیویٹ حج سکیم کے تحت درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 22 اکتوبر مقرر ہے ۔ حکام کے مطابق حج 2026 کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور حکومت نے کوشش کی ہے کہ اس سال تمام انتظامات شفاف، منظم اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہوں۔ذرائع کے مطابق اس سال نجی حج سکیم کے تحت درخواستیں جمع کرانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد وزارت مذہبی امور تمام منظور شدہ ٹور آپریٹرز کی فہرست جاری کرے گی، تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دھوکہ دہی یا غیر تصدیق شدہ آپریٹرز سے بچایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں وزارت نے تمام رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کو پابند کیا ہے کہ وہ حاجیوں کو پیکیج کی مکمل تفصیلات، رہائش، سفری سہولیات اور سعودی عرب میں موجود انتظامات سے متعلق واضح معلومات فراہم کریں۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکیم کے تحت درخواستیں جمع کرانے کیلئے شہریوں کو متعلقہ کمپنی کے منظور شدہ بینک اکانٹ میں رقم جمع کرانی ہوگی۔ حج اخراجات اور پیکیج کی نوعیت کے مطابق رقم مختلف ہو سکتی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف منظور شدہ اور لائسنس یافتہ حج آپریٹرز سے ہی رابطہ کریں تاکہ کسی بھی مالی یا انتظامی نقصان سے محفوظ رہیں۔دوسری جانب سرکاری حج سکیم کے تحت منتخب ہونے والے افراد کو بھی اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سرکاری حج سکیم کے عازمین کو 3 نومبر سے 10 نومبر کے درمیان اپنی دوسری قسط جمع کرانی ہوگی۔ حکام کے مطابق اگر کسی نے مقررہ تاریخ تک دوسری قسط جمع نہ کرائی تو اس کا انتخاب منسوخ کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ متبادل امیدوار کو موقع دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔