ترکی یوروفائٹر جنگی طیاروں کے حصول کے لئے کوشاں ہے، بلومبرگ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
امریکی اقتصادی و دفاعی میڈیا آوٹ لیٹ بلومبرگ کے مطابق برطانیہ جو یوروفائٹر کنسورشیم کا رکن ہے، قطر اور ترکی کے درمیان ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان اس ہفتے اپنے علاقائی دورے کے دوران قطر کا دورہ بھی کریں گے، جہاں وہ استعمال شدہ 24 یوروفائٹر ٹائیفون جنگی طیاروں کی خریداری پر بات چیت کریں گے۔ اس خریداری کا مقصد ترک فضائیہ کی تعمیرنو اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ امریکی اقتصادی و دفاعی میڈیا آوٹ لیٹ بلومبرگ کے مطابق برطانیہ جو یوروفائٹر کنسورشیم کا رکن ہے، قطر اور ترکی کے درمیان ان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدہ تاحال نہیں ہو سکا اور تکنیکی طور پر بات چیت جاری ہے۔ ترکی، جو دنیا میں امریکی ایف-16 طیاروں کا دوسرا بڑا آپریٹر ہے، اب تک اس نے غیر ملکی ماڈلز استعمال نہیں کیے۔ اس سودے کو ترک یورپ دفاعی تعاون میں اضافے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ یوروفائٹرز کی ابتدائی ترسیل آئندہ سال سے ممکن ہے، ترکی نئے اور استعمال شدہ طیاروں کے علاوہ ایئر ٹو ایئر میزائل میٹیور کی خریداری کے لیے تقریباً 10 ارب یورو تک خرچ کریگا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔