میمن گوٹھ میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا معمہ حل، تین ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
کراچی:
میمن گوٹھ پولیس نے 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ ملیر پولیس کے مطابق گزشتہ ماہ 20 اور 21 ستمبر کی شب میمن گوٹھ تھانے کی حدود ناگوری سوسائٹی سروس روڈ کے قریب جھاڑیوں سے 3 خواجہ سرا کی لاشیں ملیں جنھیں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، تہرے قتل کا مقدمہ میمن گوٹھ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ 302 چونتیس کے تحت درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔
پولیس کو خفیہ ذرائع سے ملنے والی معلومات اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے واردات میں ملوث 3 ملزمان سکندر جمالی، سہیل اور سکندر علی لاشاری کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ واردات کے وقت وہ نشے کی حالت میں تھے اور انھوں نے اسی نشے کی حالت میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تینوں خواجہ سرا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، گرفتار ملزمان میں شامل سہیل کا تعلق کراچی سے جبکہ دیگر 2 ملزمان کا تعلق اندرون سندھ سے ہے۔
ترجمان کے مطابق ملزمان کا گروہ اسٹریٹ کرائمز سمیت دیگر وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے اور ان کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس ملزمان مزید تفتیش کا عمل جاری ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میمن گوٹھ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ