کراچی:

میمن گوٹھ پولیس نے 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان ڈسٹرکٹ ملیر پولیس کے مطابق گزشتہ ماہ 20 اور 21 ستمبر کی شب میمن گوٹھ تھانے کی حدود ناگوری سوسائٹی سروس روڈ کے قریب جھاڑیوں سے 3 خواجہ سرا کی لاشیں ملیں جنھیں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا، تہرے قتل کا مقدمہ میمن گوٹھ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعہ 302 چونتیس کے تحت درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔

پولیس کو خفیہ ذرائع سے ملنے والی معلومات اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے واردات میں ملوث 3 ملزمان سکندر جمالی، سہیل اور سکندر علی لاشاری کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ واردات کے وقت وہ نشے کی حالت میں تھے اور انھوں نے اسی نشے کی حالت میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تینوں خواجہ سرا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، گرفتار ملزمان میں شامل سہیل کا تعلق کراچی سے جبکہ دیگر 2 ملزمان کا تعلق اندرون سندھ سے ہے۔

ترجمان کے مطابق ملزمان کا گروہ اسٹریٹ کرائمز سمیت دیگر وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے اور ان کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس ملزمان مزید تفتیش کا عمل جاری ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میمن گوٹھ

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا