پی ایس ایل میں بڑی انٹری ، دو نئی ٹیموں کی دھماکے دار آمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے لیے ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت لیگ میں دو نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے یہ پیش رفت پی ایس ایل کے شائقین اور فرنچائز مالکان کی جانب سے مسلسل بڑھتے ہوئے مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، پی ایس ایل میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کے لیے اوپن بڈنگ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس نظام کے تحت نئی ٹیموں کی ملکیت کے حقوق کھلی بولی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے تاکہ شفاف انداز میں ٹیموں کی قیمتوں کا تعین ہوسکے۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے اگلے ایڈیشن میں نئی ٹیموں کے شامل ہونے سے نہ صرف مقابلے مزید دلچسپ ہوں گے بلکہ لیگ کی مقبولیت اور تجارتی ویلیو میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ نئی ٹیموں کے مالکان کو اپنی ٹیموں کے نام اور شہر منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے گا، جب کہ پی ایس ایل انتظامیہ جلد اس حوالے سے تفصیلی طریقہ کار اور شیڈول جاری کرے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا آغاز 2016 میں صرف پانچ ٹیموں—اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، پشاور زلمی، لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز—کے ساتھ ہوا تھا۔ بعد ازاں 2018 میں ملتان سلطانز کی شمولیت کے بعد ٹیموں کی تعداد چھ ہو گئی۔
اب 11ویں ایڈیشن میں دو مزید ٹیموں کے اضافے کے بعد پی ایس ایل ایک آٹھ ٹیموں پر مشتمل میگا ایونٹ بننے جا رہا ہے، جسے کرکٹ کے شائقین ملک کی سب سے بڑی اسپورٹس لیگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل نئی ٹیموں ٹیموں کی ٹیموں کے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔