امریکا کے شہریوں کی اکثریت نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی، سروے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکا میں خبررساں ادارے کے سروے میں شہریوں کی اکثریت نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی ہے اور یہ عوامی رائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کے برعکس ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رائٹرز اور اپسوس کے سروے میں زیادہ تر امریکیوں نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی، جن میں 80 فیصد ڈیموکریٹس اور 41 فیصد ری پبلکن شامل ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امریکا کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت عوامی رائے سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔
مذکورہ سروے 6 دن پر مشتمل تھا اور پیر کو ختم ہوا اور مجموعی طور پر 59 فیصد نے امریکا کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کی جبکہ 33 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور دیگر غیر یقینی کا شکار تھے یا انہوں نے سوال کا جواب نہیں دیا۔
اسی طرح ٹرمپ کے تقریباً نصف ری پبلکن 53 فیصد نے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 41 فیصد ری پبلکن کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کریں گے۔
رائٹرز اور اپسوس نے 15 سے 20 اکتوبر 2025 کے دوران سروے میں امریکی شہریوں سے اسرائیل-فلسطین تنازع کے بارے میں بھی سوال کیا گیا اور 4 ہزار 385 بالغ شہریوں سے سروے کیا۔
گزشتہ چند ہفتوں میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں امریکا کے اتحادی برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے اس اقدام کی مذمت کی کیونکہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور کئی دہائیوں پر محیط تنازع جنم لیا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 فیصد سروے کے شرکا کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کا ردعمل حد سے زیادہ تھا جبکہ 32 فیصد اس سے متفق نہیں تھے۔
غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے رائٹرز اور اپسوس کے سروے سے ظاہر ہوا کہ اگر ٹرمپ کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو امریکی عوام انہیں اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں، تقریباً 51 فیصد شرکا اس بیان سے متفق تھے کہ اگر امن کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ٹرمپ اس کا کریڈٹ لینے کے مستحق ہیں جبکہ 42 فیصد اس سے متفق نہیں۔
سروے کے مطابق اگرچہ ہر 20 میں سے ایک ڈیموکریٹ ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو صدر کے طور پر درست سمجھتا ہے لیکن ہر چار میں سے ایک نے کہا کہ اگر امن قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کو نمایاں کریڈٹ ملنا چاہیے۔
سروے میں شہریوں نے خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں یہ شرح بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ رواں ماہ کے شروع میں جنگ بندی معاہدے سے قبل ہونے والے سروے میں 33 فیصد تھی اور یہ شرح جولائی کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت سب سے بلند سطح پر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریاست تسلیم کرنے کی حمایت فلسطینی ریاست تسلیم کرنے سروے میں ٹرمپ کی
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان