واشنگٹن:

امریکا میں خبررساں ادارے کے سروے میں شہریوں کی اکثریت نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی ہے اور یہ عوامی رائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کے برعکس ہے۔

خبرایجنسی رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رائٹرز اور اپسوس کے سروے میں زیادہ تر امریکیوں نے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کردی، جن میں 80 فیصد ڈیموکریٹس اور 41 فیصد ری پبلکن شامل ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امریکا کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت عوامی رائے سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔

مذکورہ سروے 6 دن پر مشتمل تھا اور پیر کو ختم ہوا اور مجموعی طور پر 59 فیصد نے امریکا کی جانب سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کی جبکہ 33 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور دیگر غیر یقینی کا شکار تھے یا انہوں نے سوال کا جواب نہیں دیا۔

اسی طرح ٹرمپ کے تقریباً نصف ری پبلکن 53 فیصد نے اس اقدام کی مخالفت کی جبکہ 41 فیصد ری پبلکن کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کی حمایت کریں گے۔

رائٹرز اور اپسوس نے 15 سے 20 اکتوبر 2025 کے دوران سروے میں امریکی شہریوں سے اسرائیل-فلسطین تنازع کے بارے میں بھی سوال کیا گیا اور 4 ہزار 385 بالغ شہریوں سے سروے کیا۔

گزشتہ چند ہفتوں میں فلسطینی ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں امریکا کے اتحادی برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے اس اقدام کی مذمت کی کیونکہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور کئی دہائیوں پر محیط تنازع جنم لیا۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 فیصد سروے کے شرکا کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کا ردعمل حد سے زیادہ تھا جبکہ 32 فیصد اس سے متفق نہیں تھے۔

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے رائٹرز اور اپسوس کے سروے سے ظاہر ہوا کہ اگر ٹرمپ کا منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو امریکی عوام انہیں اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں، تقریباً 51 فیصد شرکا اس بیان سے متفق تھے کہ اگر امن کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ٹرمپ اس کا کریڈٹ لینے کے مستحق ہیں جبکہ 42 فیصد اس سے متفق نہیں۔
سروے کے مطابق اگرچہ ہر 20 میں سے ایک ڈیموکریٹ ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو صدر کے طور پر درست سمجھتا ہے لیکن ہر چار میں سے ایک نے کہا کہ اگر امن قائم رہتا ہے تو ٹرمپ کو نمایاں کریڈٹ ملنا چاہیے۔

سروے میں شہریوں نے خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں یہ شرح بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ رواں ماہ کے شروع میں جنگ بندی معاہدے سے قبل ہونے والے سروے میں 33 فیصد تھی اور یہ شرح جولائی کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت سب سے بلند سطح پر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ریاست تسلیم کرنے کی حمایت فلسطینی ریاست تسلیم کرنے سروے میں ٹرمپ کی

پڑھیں:

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق

ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ