دیوالی پر جماعت اسلامی مینارٹی ونگ کا مندروں کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)دیوالی کے موقع پر جماعت اسلامی مینارٹی ونگ کراچی کے صدر ایڈووکیٹ یونس سوہن کی قیادت میں ایک وفد نے شہر کے مختلف مندروں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مینارٹی ونگ کے عہدیداران اور مختلف اضلاع کے نمائندگان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وفد نے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد پیش کی اور ان کے مذہبی تہوار کی خوشیوں میں شرکت کی۔یونس سوہن ایڈووکیٹ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر ہر انسان کو برابر کا شہری سمجھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی عبادت گاہوں میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی مکمل آزادی حاصل ہے،جماعت اسلامی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور انسانی خدمت ہی پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کی آواز بلند کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر شہری بلاخوف و خطر اپنی عبادت، ثقافت اور روایت کے مطابق زندگی گزار سکے۔ دیوالی روشنی، محبت اور خیر سگالی کا پیغام دیتی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ روشنی نفرتوں کے اندھیروں کو مٹا دے گی۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل پرویز برکت، ڈپٹی سیکرٹری انیل سنگھ، ضلع جنوبی کے صدر میگ جی، منشا مسیح اور دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔ وفد نے مختلف مندروں میں پوجا کے انتظامات کا جائزہ لیا، ہندو برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور باہمی اتحاد و بھائی چارے کے فروغ پر گفتگو کی۔یونس سوہن ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی خدمت کو اپنی ذمے داری سمجھتی ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد ایک انسان دوست اور عدل پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے ہے، جہاں ہر فرد کو انصاف اور احترام میسر ہو۔دیوالی کے اس موقع پر وفد نے شہری سطح پر امن، محبت اور یکجہتی کے پیغام کو عام کرنے کا عزم بھی کیا۔
جماعت اسلامی مینارٹی ونگ کراچی کے صدر ایڈووکیٹ یونس سوہن کی قیادت میں وفد دیوالی کے موقع پر مندر کا دورہ اور تحفہ دے رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی مینارٹی ونگ یونس سوہن وفد نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔