ویب ڈیسک :پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر ایٹمی بجلی کی پیداوار 39.54 فی صد بڑھ گئی ہے۔

نیپرا دستاویز کے مطابق رواں سال ستمبر میں جوہری ایندھن سے 2 ہزار 227 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی گئی، جوہری ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 2 روپے 18 پیسے فی یونٹ رہی۔

دستاویز کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں نیوکلیئر انرجی کی پیداوار 1 ہزار 596 میگاواٹ تھی۔

سالانہ بنیادوں پر فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار میں 148.

72 فی صد اضافہ ہوا ہے، رواں سال فرنس آئل سے 0.77 فی صد بجلی پیدا کی گئی، جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں فرنس آئل سے 0.31 فی صد بجلی پیدا کی گئی تھی، فرنس آئل سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 28 روپے 24 پیسے فی یونٹ رہی۔

خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار

دوسری طرف سالانہ بنیادوں پر پن بجلی کی پیداوار 1.14 فی صد گر گئی ہے، رواں سال ستمبر میں پن بجلی کی پیداوار 38 فیصد رہی، درآمدی ایل این جی سے بھی بجلی کی پیداوار میں 8.44 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق درآمدی ایل این جی سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 21 روپے 19 پیسے رہی، مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار 4.76 فی صد کم رہی، مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار 13 روپے 50 پیسے فی یونٹ رہی۔

واضح رہے کہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر بجلی کی پیداوار میں 0.84 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

لاہور دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ