City 42:
2026-06-02@23:00:38 GMT

بجلی فی یونٹ 10 روپے مزید سستی کرنے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

ویب ڈیسک:وفاقی حکومت نے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی پر مبنی رعایتی پیکیج متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت بجلی کی قیمتوں میں 10روپے فی یونٹ سے زیادہ کمی کی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں بہتری کی توقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ رعایتی پیکیج تین سال کے لیے نافذ العمل ہوگا، جو یکم نومبر 2025 سے شروع ہو کر 31 اکتوبر 2028 تک جاری رہے گا۔

خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس منصوبے کا باضابطہ اعلان آج کیا جانے کا امکان ہے، منصوبے کے مطابق وہ صنعتی اور زرعی صارفین جو اضافی بجلی استعمال کریں گے، انہیں رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے گی تاکہ توانائی کے بہتر استعمال اور پیداواری کارکردگی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں پر توانائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا اور پیداواری اخراجات میں کمی لا کر برآمدات کو فروغ دینا ہے۔

لاہور دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا

ماہرین کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی سے نہ صرف ملکی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکے گا بلکہ اقتصادی سرگرمیوں میں بھی خاطر خواہ تیزی آئے گی۔

حکومت کو توقع ہے کہ اس رعایتی پیکیج کے ذریعے صنعتی شعبے میں استحکام، زرعی پیداوار میں اضافہ، اور پائیدار معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان