بجلی فی یونٹ 10 روپے مزید سستی کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک:وفاقی حکومت نے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی پر مبنی رعایتی پیکیج متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت بجلی کی قیمتوں میں 10روپے فی یونٹ سے زیادہ کمی کی جا سکتی ہے، جس سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ برآمدات میں اضافے اور ملکی معیشت میں بہتری کی توقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ رعایتی پیکیج تین سال کے لیے نافذ العمل ہوگا، جو یکم نومبر 2025 سے شروع ہو کر 31 اکتوبر 2028 تک جاری رہے گا۔
خریداروں کیلئے بڑی خوشخبری، پاکستان میں سستے سولر پینلزتیار
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس منصوبے کا باضابطہ اعلان آج کیا جانے کا امکان ہے، منصوبے کے مطابق وہ صنعتی اور زرعی صارفین جو اضافی بجلی استعمال کریں گے، انہیں رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے گی تاکہ توانائی کے بہتر استعمال اور پیداواری کارکردگی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں پر توانائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا اور پیداواری اخراجات میں کمی لا کر برآمدات کو فروغ دینا ہے۔
لاہور دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا
ماہرین کے مطابق بجلی کے نرخوں میں کمی سے نہ صرف ملکی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنایا جا سکے گا بلکہ اقتصادی سرگرمیوں میں بھی خاطر خواہ تیزی آئے گی۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس رعایتی پیکیج کے ذریعے صنعتی شعبے میں استحکام، زرعی پیداوار میں اضافہ، اور پائیدار معاشی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔