چین کی سرکاری تیل کمپنیوں نے روسی تیل کی خریداری معطل کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چین کی سرکاری تیل کمپنیوں نے امریکی پابندیوں کے بعد روسی خام تیل کی خریداری عارضی طور پر معطل کر دی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں نئی بے یقینی پیدا ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، روس کی دو بڑی توانائی کمپنیوں پر واشنگٹن کی جانب سے پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد چین کی سرکاری کمپنیوں نے روسی خام تیل کے نئے معاہدوں پر عمل روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پابندیوں کے خدشے کے پیشِ نظر چینی بینک بھی روس سے منسلک مالی لین دین میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
اسی طرح بھارت کی آئل ریفائنریز نے بھی روسی تیل کی درآمد میں بتدریج کمی لانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ماہرین کے مطابق، بھارت اور چین روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار رہے ہیں اور ان دونوں ممالک کی جانب سے خریداری میں کمی روس کی برآمدی آمدنی پر نمایاں دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا حصہ ہے، جس کے روسی معیشت پر طویل المدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔