پنجاب حکومت سے مذاکرات کامیاب‘ ٹریفک آرڈیننس پر عملدرآمد معطل‘ ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ختم کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-08-27
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی نے ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد معطل کرنے پر پنجاب میں پہیہ جام ہڑتال ختم کردی۔ اتوار کی رات گئے سے پیر کی دوپہر تک پنجاب میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری رہی۔ صوبے میں ہڑتال کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور ریلوے اسٹیشنوں پر رش میں اضافہ ہوگیا۔ دوپہر کو صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی، اراکین تنویر خان، نبیل محمود، ملک ندیم حسین اور دیگر نمائندوں سے مذکرات کیے۔ وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ فی الحال ٹریفک آرڈیننس کو منسوخ کر رہے ہیں،جرمانے بھی نہیں ہوں گے، مسائل کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ عصمت اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ وزیر ٹرانسپورٹ کی یقین دہانی پر ہڑتال معطل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمرشل گاڑیوں کے چالان نہیں ہوں گے، تھانوں میں گاڑیاں بند نہیں ہوں گی۔ دوسری جانب پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن کے صد ر شیر علی چودھری کا کہنا تھا کہ آرڈیننس منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ورنہ ہڑتال جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ ا رڈیننس
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔