علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اورتجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اورتجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اورتجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا۔
ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرزکانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اورعوام کی جانب سے شریک مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہیں، ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس نے بات چیت کا اہم موقع فراہم کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کانفرنس دوطرفہ اورعلاقائی روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے، عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ اورروابط کے نظام میں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، ہمارا خطہ موجودہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو تک روابط کا محور رہا ہے، معیشت کی بڑھتی اہمیت نے اس قدیم گزرگاہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ گوادرکی طویل ساحلی پٹی اورکراچی کی بندرگاہ میری ٹائم سلک روڈ میں شامل ہیں، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے، کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی پر توجہ مرکوز ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹرانس افغان ریلوے، اسلام آباد، تہران، استنبول ریلوے کوریڈور پر کام کررہے ہیں، علاقائی روابط میں اضافے سے معاشی اورتجارتی شعبے میں انقلاب آئے گا، بڑے منصوبے خطے کی اقتصادی صلاحیتوں کو یکجا کریں گے، تجارت، معیشت اورتوانائی میں تعاون سے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں روابط صرف سڑک، ریل یا فضائی راستوں تک محدود نہیں، آج کا دور ڈیٹا اور تکنیکی انضمام سے وابستہ ہے، پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکے شعبے میں سرمایہ کاری کررہا ہے، نوجوان نسل کو جدید دورکے تقاضوں کے مطابق تربیت کی فراہمی ترجیح ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ایل پی جماعت نہیں مائنڈسیٹ، اس کیخلاف موثر جنگ لڑنا ہوگی: عظمیٰ بخاری سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں ایک دہائی بعد نمایاں کمی سکیورٹی فورسز کی لکی مروت میں کامیاب کارروائی، 8 خوارج ہلاک، 5 شدید زخمی علیمہ خان کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ بلاک اور ضامن کی پراپرٹی بحق سرکار قرق کرنے کا حکم وزیراعظم سے قطری وزیرتجارت کی ملاقات؛ سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے پر اتفاق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں کتنا قرضہ لیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں غزہ: امدادی سامان کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹیں، سیز فائر کے 2 ہفتے بعد بھی بھوک و پیاس برقرارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں