سرکریک سے جیوانی تک سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، سربراہ پاک بحریہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس ایریا میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور آپریشنل تیاریوں اور جنگی استعداد کا جائزہ لیا
پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتیں ساحل سے سمندر تک بلند حوصلوں کی طرح مضبوط اور مستحکم ہیں،آئی ایس پی آر
سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا ہے کہ سرکریک سے جیوانی تک اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کادفاع کرنا جانتے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس ایریا میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور آپریشنل تیاریوں اور جنگی استعداد کا جائزہ لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک بحریہ کے دورے کے موقع پر پاک میرینز میں جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹس کے 3 یونٹس کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔ ہوورکرافٹس کی شمولیت پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق نئے شامل کیے گئے ہوورکرافٹس ایک ساتھ مختلف زمینی و آبی سطحوں پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ خشکی اور سمندر دونوں پر بیک وقت کارروائی کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں، ہوورکرافٹس پاک میرینز کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں نمایاں برتری فراہم کریں گے اور دشمن کے خلاف فیصلہ کن اور مؤثر ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط بنائیں گے۔اس موقع پر سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف نے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان نئے پلیٹ فارمز کی شمولیت پاک بحریہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے وژن کی تجدید ہے، یہ ملک کے سمندری و ساحلی دفاع کے عزم کی بھی تجدید ہے۔ سربراہ پاک بحریہ کا کہنا تھا کہ سرکریک سے جیوانی تک اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتیں ساحل سے سمندر تک بلند حوصلوں کی طرح مضبوط اور مستحکم ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک بحریہ بحر ہند میں امن واستحکام کی ضامن اور علاقائی سمندری سلامتی کی اہم شراکت دار ہے، ہم جانتے ہیں اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کے ایک ایک انچ کا دفاع کیسے کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف ا ئی ایس پی ا ر جانتے ہیں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔