ٹی ایل پی پر پابندی، مریم نواز کی سیکیورٹی ٹیم کی اسکریننگ شروع
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
کالعدم مذہبی جماعت سے تعلق کی بنیاد پر اہلکاروں اور دیگر عملے پر نظررکھی جا رہی ہے
اسکریننگ کا عمل جاتی عمرہ سے لے کر وزیراعلیٰ آفس تک جاری ہے، پولیس ذرائع
مذہبی جماعت ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد مریم نواز کے سکیورٹی اسٹاف اور دیگر عملے کی اسکریننگ شروع کردی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی سکیورٹی کے تمام اہل کاروں کی اسکریننگ شروع کردی گئی ہے۔ یہ اسکریننگ جاتی عمرہ سے وزیراعلی آفس تک تمام اہل کاروں کی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں بلکہ دیگر عملے کی بھی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی اسٹاف اور دیگر اسٹاف کی اسکریننگ کالعدم مذہبی جماعت سے تعلق کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔اسکریننگ میں تمام اسٹاف کو چیک کیا جا رہا ہے کہ ان کا کالعدم مذہبی جماعت سے کوئی تعلق تو نہیں اور چیکنگ کے دوران تصدیق کی صورت میں انہیں جاتی عمرہ اور سی ایم آفس کی سکیورٹی سے ہٹا دیا جائے گا۔ اسکریننگ اور چیکنگ کا عمل مذہبی جماعت کے خلاف حالیہ آپریشن کے بعد کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی پر پابندی کی اسکریننگ جا رہی ہے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان