شمالی وزیرستان، سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 3 فتنہ الخوارج کے دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے جھالر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا، اِس دوران شرپسندوں سے جوانوں پر فائرنگ کردی، اہلکاروں نے بھی بھر پور جواب دیتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں 3 فتنہ الخوارج کے دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے جھالر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا، اِس دوران شرپسندوں سے جوانوں پر فائرنگ کردی، اہلکاروں نے بھی بھر پور جواب دیتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچایا۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کے کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے ممکنہ تباہ کن حملے کو روک دیا جہاں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کی موجودگی اور خودکش گاڑی تیار کرنے کی مصدقہ اطلاع تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت آخری خوارج کے خاتمے اور امن و امان کی مکمل بحالی تک کلین اپ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فتنہ الخوارج کے شمالی وزیرستان سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک