ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس پر سلمان عبداللہ مراد کا ردعمل میں کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے دور میں کراچی کو لسانیت، بدمعاشی اور خوف کی سیاست کا نشانہ بنایا گیا، آج پیپلز پارٹی کے دور میں شہر میں امن، ترقی اور روشنی لوٹ رہی ہے، جو لوگ کل تباہی کے ذمہ دار تھے، آج خود کو مسیحا ظاہر کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ کراچی کی تباہی کی کوئی اور نہیں بلکہ ایم کیو ایم خود ذمہ دار ہے، جنہوں نے تین دہائیوں تک شہر پر حکومت کی، آج وہی اس کی بدحالی پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ ڈپٹی میئر کراچی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی خدمت کی سیاست کی ہے، لوٹ مار نہیں، ایم کیو ایم کو چاہیئے کہ ماضی میں کی گئی کرپشن، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ پر قوم سے معافی مانگے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو دوبارہ اندھیروں میں دھکیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دور میں کراچی کو لسانیت، بدمعاشی اور خوف کی سیاست کا نشانہ بنایا گیا، آج پیپلز پارٹی کے دور میں شہر میں امن، ترقی اور روشنی لوٹ رہی ہے، جو لوگ کل تباہی کے ذمہ دار تھے، آج خود کو مسیحا ظاہر کر رہے ہیں۔ سلمان عبداللہ مراد نے کہا کہ شہری باشعور ہیں، وہ جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈے میں نہیں آئیں گے، سیاست الزامات سے نہیں، عوامی خدمت سے کی جاتی ہے اور پیپلز پارٹی نے یہ کر کے دکھایا ہے، ایم کیو ایم کو اب الزام تراشی چھوڑ کر کراچی کی بہتری کے سفر میں رکاوٹ ڈالنا بند کرنا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کے دور میں نے کہا کہ ایم کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف