آزاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ قمرزمان کائرہ نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں نیا وزیراعظم پیپلز پارٹی کے 3 سینئر رہنماؤں میں سے ہوگا اور حتمی فیصلہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں قمرزمان کائرہ سے پوچھا گیا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں آخری دنوں میں حکومت کیوں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں حکومت لینا کوئی شوق نہیں ہے، الیکشن نزدیک ہیں اور الیکشن کے قریب حکومت لینا ایک چیلنج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں حکومت سازی: پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لیے نمبر پورے کرلیے
قمرزمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس وقت آزاد کشمیر اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت ہے اور حالیہ دنوں میں جو صورتحال پیدا ہوئی، وہ مذاکرات کے بعد بھی کنٹرول نہیں ہو پارہی۔ نئے الیکشن کو ابھی 8 سے 9 مہینے باقی ہیں، اس لیے ہم نے اس عرصے کے لیے حکومت لی ہے کہ وہاں کم از کم کسی کا انتظام تو ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مسائل کی وجہ بنی رہی اور مسائل حل نہیں کر پائی، یہی وجہ ہے کہ ہم حکومت لے رہے ہیں، ورنہ الیکشن کے قریب آ کر حکومت لینا دانشمندی نہیں ہوتی۔
ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات حل کرنے کی وجہ سے ہی یہ حکومت تبدیل ہو رہی ہے اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے بارے میں ہم عوامی خواہشات کے عین مطابق مخلص ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر عدم اعتماد: بیرسٹر سلطان گروپ کے 6 ارکان اسمبلی کا پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ جو وعدے ہیں، وہ پورے کیے جائیں۔ مہاجرین کی نشستوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا تھا، جس میں وفاقی حکومت 2 نام دے، آزاد کشمیر حکومت 2 نام دے اور ایکشن کمیٹی کے ممبران شامل ہوں گے؛ یہ کمیٹی ابھی تک بن جانی چاہیے تھی جو وہاں کی سابق حکومت کا کام تھا مگر وہ یہ کام نہیں کر سکی۔
تحریک عدم اعتماد میں مسلم لیگ ن کے ووٹ دینے کے سوال پر قمرزمان کائرہ نے کہا کہ سمجھ لیجیے کہ ہاں، اگرچہ مسلم لیگ ن نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن کشمیر کو موجودہ بحرانی صورتحال سے نکالنے میں مسلم لیگ ن بھی پیچھے نہیں رہے گی۔ ان کے بقول انہیں امید ہے کہ مسلم لیگ ن حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے گی کیونکہ وہ بھی نہیں چاہتی کہ حالات بگڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا اعلان، نیا وزیراعظم کون ہوگا؟
حالات کی خرابی میں وزیراعظم آزاد کشمیر کے کردار کے بارے میں قمرزمان کائرہ نے کہا کہ عوام کی صحت، مہنگائی اور دیگر مطالبات کو وقت پر ہینڈل نہ کرنا ان کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تو بنا لی لیکن 6 ماہ تک کسی کو پورٹ فولیو ہی نہیں دیا، سب کچھ مرکزی کر لیا جو پارلیمانی نظام میں درست نہیں۔
اگلے وزیراعظم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مشاورت جاری ہے اور پارٹی کے سینئر ناموں میں سے ہی کوئی وزیراعظم ہوگا۔ ان میں چوہدری یسین اور چوہدری لطیف اکبر کے نام شامل ہیں جبکہ سابق وزیراعظم سردار یعقوب کے بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے۔ حتمی فیصلہ بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمیر پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد قمرزمان کائرہ مسلم لیگ ن نیا وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد قمرزمان کائرہ مسلم لیگ ن نیا وزیراعظم قمرزمان کائرہ نے کہا انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے نیا وزیراعظم پیپلز پارٹی کے بارے میں مسلم لیگ ن میں حکومت کے لیے
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :