وزیرِ اعظم آزاد کشمیر استعفیٰ دیں گے یا تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق—فائل فوٹو
آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق استعفیٰ دیں گے یا تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے؟
آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی وزیرِ اعظم کے استعفیٰ یا تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے متوقع ہے، اس معاملے پر انوارالحق نے مشاورت شروع کر دی ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ن لیگ کو موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کی حمایت سے بدنامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ۔
وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے حتمی فیصلہ 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں ممبران اسمبلی کی مجموعی تعداد 52 ہے، پیپلز پارٹی کو حکومت سازی کے لیے 27 اراکین کی حمایت درکار ہو گی۔
پیپلز پارٹی 17، مسلم لیگ ن 9، تحریکِ انصاف 4، مسلم کانفرنس اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی ایک ایک رکن کے ساتھ ایوان میں موجود ہیں جبکہ فارورڈ بلاک میں 20 ارکانِ اسمبلی شامل ہیں۔
پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ کرلیا، وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق کرلیا گیا۔
مسلم لیگ ن کی حمایت سے پیپلز پارٹی کے پاس اراکین کی مجموعی تعداد 26 ہو جائے گی، پیپلز پارٹی نے نمبر گیم پورا کرنے کے لیے فارورڈ بلاک کے اراکین سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے حکومت بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر مشاورت جاری ہے، آنے والے دنوں میں اہم سیاسی پیش رفت کا امکان ہے، پیپلز پارٹی نے اب تک حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد شو نہیں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی حمایت کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔