پاک افغان جنگ بندی: جارحانہ بیانات غیرضروری ہیں‘لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (صباح نیوز) نائب امیر جماعت اسلامی، صدر مجلس قائمہ سیاسی قومی امور لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاک-افغان جنگ بندی کے مراحل میں جارحانہ بیانات غیر ضروری ہیں، پاک-افغان جنگ بندی ہی نہیں، پائیدار تعلقات خطہ کی اہم ترین ضرورت ہے، افغانستان کی طالبان حکومت اور قیادت یہ امر تسلیم کرے کہ امریکا اور بھارت ہمارے مسائل کا حل نہیں، البتہ مسائل میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف جارحیت، دہشت گردی، دراندازی اور عوام کیلیے خطرات کا باعث نہیں بننی چاہیے۔ لیاقت بلوچ نے مجلس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور ایران کے مابین مضبوط، پائیدار دینی، سفارتی تعلقات پورے خطے کیلیے امن و ترقی کی شاہراہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ فلسطین اور کشمیر تنازعات جب تک اصول، انصاف اور لاکھوں انسانوں کے حق آزادی کی بنیاد پر حل نہیں کیے جاتے، عالمی امن کیلیے خطرات قائم رہیں گے، اسرائیل فاسد ہے، عالمی امن کیلیے انتہائی خطرناک مرکز ہے ، امریکا اور یورپ کو اسرائیل کے ناجائز وجود کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی، امریکا اور ٹرمپ کا امن منصوبہ اسرائیلی صیہونی دہشت گرد نیتن یاہو حکومت کے ہاتھوں پارہ پارہ ہورہا ہے، امن منصوبہ میں تعاون کرنے والے تمام ممالک کی اسرائیل تذلیل کررہا ہے، مشرقِ وسطی میں پائیدار امن کے لیے عالم اسلام کا اتحاد ناگزیر ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئین سے بالادست اور بالاتر نظام قومی وحدت، عوامی اعتماد اور مِلی یکجہتی کیلیے خطرہ بن گیا ہے، پی پی پی، مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادی ہائبرڈ نظام کی چھتری تلے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن انہیں اس امر کا احساس نہیں کہ وہ آئین، جمہوریت، پارلیمانی اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کیلیے بڑی تباہی بنے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی اپنی مقبولیت کے گھوڑے پر سوار ہے لیکن ملک کو سیاسی، جمہوری، آئینی بحرانوں سے نکالنا ان کی ترجیح نہیں، یہی رویہ اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بن گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ٹی ایل پی کے خلاف ریاست کا اقدام تمام دینی جمہوری قوتوں کے لیے خطرے کا الارم ہے۔ قومی ترجیحات پر قومی قیادت قومی سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرے، اِسی میں سب کی بھلائی اور یہی ملک و قوم کے تحفظ کا ضامن ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سیاست کو پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی نے داغدار اور تماشا بنادیا ہے۔ پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی سرپرستی کرکے اسٹیبلشمنٹ کی بدنامی پر بدنامی اور قومی وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، ملکی ترقی و استحکام ہائبرڈ نظام نہیں آئین و قانون کی بالادستی تسلیم کرنے اور عملدرآمد کرنے میں ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کو مزید بیاثر اور اعلیٰ عدالتوں کو تضادات اور باہم تقسیم کا شکار کردیا ہے، حکومت، ریاست تسلیم کرے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے وجود کو مفلوج کرنا سب کے لیے بڑا نقصان ہے، 26 ویں آئینی ترمیم سوفیصد آئین کی روح کے خلاف ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ 21، 22، 23 نومبر مینارِ پاکستان پر جماعتِ اسلامی کا اجتماعِ عام تاریخ ساز ہوگا اور قومی وحدت و ترقیکامظہرہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور سینئر سیاستدان فواد چوہدری(Fawad Chaudhry) نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان قومی حکومت کے تصور کو ایک ممکنہ آپشن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی اس بات پرراضی ہیں کہ قومی حکومت بنےاوراس کے بعد اصلاحات اور انتخابات کاعمل ہو۔
ایم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہاکہ عمران خان سے کچھ لوگوں کی ملاقات ہوئی اوراس میں یہ موضو ع زیربحث آیا،انہوں نے کہاکہ عمران خان بھی سمجھتے ہیں کہ قومی حکومت ہی واحد حل ہے۔
مزیدپڑھیں:پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
بڑی خبر! فواد چوہدری کا پروگرام ‘پاور ٹاک’ میں بڑا انکشاف: عمران خان نے حالیہ دنوں میں ہونے والی ملاقاتوں میں قومی حکومت کی حامی بھر لی ہے۔ pic.twitter.com/AY8ONxXYE8
— Makhdoom Shahab-ud-Din (@ShahabSpeaks) June 2, 2026