پاکستان پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری کرلی۔تحریک انصاف آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 9 وزرا نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی آزادکشمیر کے 5 وزرا نے فریال تالپور اور چوہدری ریاض سے ملاقات کی جس میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جن میں چوہدری یاسر، محمد حسین، چوہدری محمد اخلاق، چوہدری ارشد اور چوہدری محمد رشید شامل ہیں۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے مزید چار وزرا نے فریال تالپور سے ملاقات کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ان وزرا میں فہیم اخترربانی، عبدالماجد خان، محمد اکبرابراہیم اور عاصم شریف بٹ شامل ہیں۔فریال تالپور نے نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کا خیرمقدم اور ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کی سچی نمائندہ رہی ہے، سیاسی اورمعاشی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیرہائرایجوکیشن ظفراقبال ملک بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔انہوں نے بھی فریال تالپور اور چوہدری ریاض سے ملاقات کے شمولیت کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے ارکان اسمبلی کی تعداد 27 تک پہنچ گئی۔دوسری جانب ذرائع پیپلزپارٹی نے بتایاکہ مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیرحکومت بنائیں گے، فریال تالپورکی جانب سے آج سندھ ہاؤس اسلام آباد میں رات10 بجےڈنردیاجائےگا جس میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی شریک ہوگی، اس کے علاوہ مہاجرین نشستوں اور بیرسٹرسلطان گروپ کےارکان شریک ہوں گے۔ذرائع نے بتایاکہ بیرسٹرسلطان گروپ نے فریال تالپورکے ساتھ ملاقات میں ووٹ کی یقین دہانی کرادی، بیرسٹرسلطان گروپ کے 5 اور مہاجرین نشستوں کے 5 ارکان پیپلزپارٹی کیساتھ ہیں، دو ارکان کی حمایت خفیہ رکھی گئی ہے۔ذرائع پیپلزپارٹی کےمطابق دونوں دھڑوں کی شمولیت کےبعد30 سے زائدارکان کا ساتھ حاصل ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز صدر آصف زرداری نے آزادکشمیر میں عدم اعتماد لانے اور آزادکشمیر میں حکومت بنانےکی منظوری دی۔آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ قانون سازاسمبلی میں اِس وقت پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد 17 ہے جو مزید 10 ارکان کی شمولیت کے بعد 27 ہوگئی۔مسلم لیگ ن اس وقت 9 ممبران اسمبلی کے ساتھ ایوان میں موجود ہے لیکن ن لیگ نے حکومت سازی کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شمولیت کا اعلان کیا فریال تالپور پیپلز پارٹی پارٹی میں کشمیر کے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار