اسلام آباد:

آزاد کشمیر میں وزیراعظم لانے کیلیے پاکستان پیپلزپارٹی نے اراکین کی حمایت کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل کرلی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 5 وزرا نے اسلام آباد میں پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور سے ملاقات کی اور پی پی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی کے چوہدری رشید، یاسر سلطان، چوہدری ارشد، چوہدری اخلاق اور سردار محمد حسین آزاد کشمیر میں بطور وزیر امور انجام دے رہے تھے جو اگلی حکومت سازی میں پیپلزپارٹی کی حمایت کریں گے۔

اس کے علاوہ چار اراکین ماجد خان، عاصم شریف بٹ، اکبر ابراہیم اور فہیم ربانی کی بھی فریال تالپور سے ملاقات ہوئی جس کے بعد 27 اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق فریال تالپور کی قیادت میں پیپلز پارٹی حکومت سازی کے اقدامات کو حتمی شکل دے رہی ہے، ممکنہ حکومت سازی کے فیصلے آج یا کل متوقع ہے۔

اس کے علاوہ پی پی رہنما فریال تالپور سے  آزاد کشمیر کے سلطان محمود گروپ کے اراکین کی ملاقات بھی ہوئی جس میں یاسر سلطان ، سردار محمد حسین ، چوہدری ارشد، چوہدری رشید، چوہدری اخلاق شریک تھے۔

علاوہ ازیں بیرسٹر سلطان محمود گروپ نے عدم اعتماد کے لیے پی پی کی حمایت کا اعلان  کیا۔

 فریال تالپور کی جانب سے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں اراکین کیلیے آج رات پُرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی، مہاجرین نشستوں اور بیرسٹر سلطان گروپ کے ارکان شریک ہوں گے۔

بیرسٹر سلطان گروپ کے 5 اور مہاجرین نشستوں کے 5 ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں، دو ارکان کی حمایت خفیہ رکھی گئی ہے اور دونوں دھڑوں کی شمولیت کے بعد 30 سے زائد ارکان کا ساتھ حاصل ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی آج پاور شو کے ذریعے اپنی عددی برتری ثابت کرے گی اور اسلام آباد میں دیا جانے والا ڈنر سیاسی طاقت کے مظاہرے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل فریال تالپور پیپلز پارٹی اراکین کی میں پیپلز کی حمایت

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی