پی ٹی آئی قیادت صرف تصویریں بنانے کیلیے دھرنے میں آتی ہے، اڈیالہ جیل کے باہر کارکن کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: تحریک انصاف کے کارکن فضل امین نے اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کے دھرنے کے دوران پارٹی قیادت پر کھری کھری باتیں کرتے ہوئے ناراضی کا اظہار کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھرنا پی ٹی آئی کی جانب سے بانی پارٹی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف دیا گیا ہے، کارکنان نے اس موقع پر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔
https://jasarat.com/wp-content/uploads/2025/12/pti-protest.mp4
نوشہرہ سے آئے فضل امین نے کہا کہ سب کہتے ہیں خان تیرے جانثار لیکن وہ جانثار کہاں ہیں جو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے دعوے کرتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کارکن سے کہا کہ یہاں سب غیرت مند بیٹھے ہیں، جس پر کارکن نے انہیں بھی کھری کھری سنائیں، فضل امین نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت صرف تصویریں اور ٹک ٹاک بنانے کے لیے دھرنے میں آتی ہے جبکہ کارکن ذلیل ہوتے رہے۔
دھرنے کے دوران دیگر کارکنان نے فضل کریم کو دھرنے سے باہر نکالا تاکہ معاملہ مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔